علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی اور مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جہلم امام حسین علیہ السلام کے ایام قریب ہیں، اس موقع پر وزیر داخلہ حسن نقوی کی جانب سے بلوچستان کے راستے ایران، عراق جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ہم حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے زمینی راستوں سے زیارت پر جانے والے زائرین پر پابندی قابل قبول نہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

زائرین پر پابندی کیخلاف شیعہ علماء کونسل کی پریس کانفرنس

زائرین پر پابندی کیخلاف شیعہ علماء کونسل کی پریس کانفرنس

زائرین پر پابندی کیخلاف شیعہ علماء کونسل کی پریس کانفرنس

زائرین پر پابندی کیخلاف شیعہ علماء کونسل کی پریس کانفرنس

زائرین پر پابندی کیخلاف شیعہ علماء کونسل کی پریس کانفرنس

زائرین پر پابندی کیخلاف شیعہ علماء کونسل کی پریس کانفرنس

زائرین پر پابندی کیخلاف شیعہ علماء کونسل کی پریس کانفرنس

زائرین پر پابندی کیخلاف شیعہ علماء کونسل کی پریس کانفرنس

زائرین پر پابندی کیخلاف شیعہ علماء کونسل کی پریس کانفرنس

اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی اور مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جہلم امام حسین علیہ السلام کے ایام قریب ہیں، اس موقع پر وزیر داخلہ حسن نقوی کی جانب سے بلوچستان کے راستے ایران، عراق جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ہم حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے زمینی راستوں سے زیارت پر جانے والے زائرین پر پابندی قابل قبول نہیں، زائرین کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، راستے کھلے رکھے جائیں ، پاکستان سمیت ایران و عراق میں جنگی حالات نہیں جس کی وجہ سے حکومت اتنے بڑے اقدامات کرے۔ یہ ایک غیر آئینی اقدام ہے اور بنیادی حقوق کی علم کھلا خلاف ورزی ہے۔ دہشتگردی کے نام پر حکومت کی جانب سے صرف زیارات پر جانے والے زائرین پر پابندی لگانا حکومتی نا اہلی ہے، اربعین کی زیارات کے حوالے سے زائرین اور قافلہ سالاروں کے اربوں روپے کے اخراجات ہو چکے۔ اربعین جیسے مقدس سفر کو ایک بیان کے ذریعے زمینی راستوں کی بندش کا اعلان کر کے روک دینا عوام سے زیادتی اور زائرین کوار وں کا نقصان دینے کے مترادف ہے جس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا جبکہ حکومت کی جانب سے زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن حکومت کا اچانک یہ یوٹرن معنی خیز ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ وہ تفتان پر سیکورٹی تھرٹ سے نمٹنے کی اہل نہیں تو رمدان بارڈر پر زائرین کو فول پروف سیکورٹی کے ساتھ آمد ورفت کی سہولت فراہم کرے یا حکومت اگر سیکیورٹی فراہم نہیں کرسکتی اور عوام کے تحفظ میں اپنی ناکامی تسلیم کرتی ہے تو پھر معاوضے کے طور پر کوئٹہ سے تفتان تک زائرین کو بائی ائیر کی فری سہولت فراہم کرے اور خالی بسیں تفتان بارڈر پر پہنچائے تاکہ زائرین بر وقت اور حفاظت کے ساتھ ایران کے راستے عراق کربلا روانہ ہوسکیں۔ مسئلے کے حل کیلئے وزیر داخلہ سمیت حکومت کے سنجیدہ حکام سے رابطے کی کوششیں جاری ہیں اور اگر ملاقات سے روگردانی کر کے مسئلے کے حل کیلئے کوئی راہ حل تلاش نہ کیا گیا اور یکطرف طور پر فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ہمارے پاس بھی تمام آپشنز اوپن ہیں، جس کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا لہذا حکومت سے اپیل کہ وہ اس اہم مسئلے پر فوری نظر ثانی کرے اور اربعین جیسے مقدس زیارتی سفر کیلئے زمینی راستوں سے جانے والے زائرین پر لگائی جانے والی پابندی کا فیصلہ واپس لے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جانے والے زائرین پر حکومت کی جانب سے زمینی راستوں زائرین کو

پڑھیں:

بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک

اسلام ٹائمز: بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ تحریر: علی احمدی
 
خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع عرب ریاستوں خاص طور پر بحرین اور متحدہ عرب امارات میں اہل تشیع شہریوں کے ساتھ عرب حکمرانوں کا امتیازی سلوک اپنے عروج پر جا پہنچا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپریل کے وسط میں اچانک ہی 15 ہزار اہل تشیع پاکستانی مہاجرین کو ملک بدر کر دیا جو وہاں مختلف شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو گذشتہ چند دہائیوں سے وہاں مقیم تھے اور محنت مزدوری میں مصروف تھے۔ انہیں بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا اور ان کے بینک اکاونٹس بند کر دینے کے بعد خالی ہاتھ وطن واپس بھیج دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اداروں اور سرگرم اراکین نے اس اقدام کو فرقہ وارانہ بنیاد پر امتیازی سلوک کا واضح مصداق قرار دیا ہے اور اسے خطے میں جاری جنگ اور پاکستان کی جانب سے اس جنگ کے خاتمے کے لیے فعال کوششوں اور کردار سے مربوط جانا ہے۔
 
دوسری طرف بحرین میں بھی اگرچہ مقامی آبادی کی اکثریت اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن حکمفرما آل خلیفہ خاندان شیعہ شہریوں سے بدترین امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ آل خلیفہ حکمرانوں نے سرکاری سطح پر اہل تشیع کو تمام اہم اور اعلی سطحی حکومتی مناصب سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ شیعہ شہری کسی بھی اہم حکومتی، سیکورٹی یا اقتصادی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتے اور یوں ان سے دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک جاری ہے۔ شیعہ شہریوں کو مذہبی رسومات جیسے عزاداری وغیرہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے، امام بارگاہیں اور شیعہ مساجد بند کر دی گئی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں شیعہ بحرینی شہریوں سے ایران کی حمایت جیسے بے بنیاد الزام اور بہانے کے ذریعے شہریت واپس لے لی گئی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
 
ظالم و جابر حکومت
حالیہ جنگ میں امریکی صیہونی محاذ کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بحرین پر حکمفرما آل خلیفہ رژیم نے صیہونی مہرہ ہونے اور غاصب صیہونی رژیم سے وفاداری کا پورا ثبوت دیتے ہوئے مئی کے آخر سے شیعہ شہریوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ آل خلیفہ رژیم کے ہرکارے رات کے وقت شیعہ علماء کے گھرون پر وحشیانہ انداز میں کریک ڈاون کر رہے ہیں اور اب تک دسیوں شیعہ علماء کو گرفتار کر لیا ہے جن میں دو معروف عالم دین شیخ محمد سنقور اور شیخ علی الصدیقی بھی شامل ہیں۔ بحرینی حکام نے ان افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے رابطے میں تھے۔ اسی طرح آل خلیفہ رژیم نے دسیوں شیعہ بحرینی شہریوں کی شہریت بھی ختم کر دی ہے۔ اہل تشیع کے مذہبی مقامات پر شدید قدغن لگا دیا گیا ہے اور 400 سے زائد شہریوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
 
ان ظالمانہ اور آمرانہ اقدامات کے جواب میں بحرین کے شیعہ علماء نے بیانیہ جاری کیا جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ شیخ عبداللہ الدقاق اور دیگر اسیر یا جلاوطن شیعہ علماء نے آل خلیفہ رژیم کے ظالمانہ اقدامات کو بحرین کے شیعہ اور اسلامی تشخص کے وجود کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ظلم و ستم پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ اسی طرح بحرین کے مختلف حصوں میں کفن پوش مظاہرے بھی منعقد ہوئے ہیں اور شیعہ برادری نے ان اقدامات کو آل خلیفہ کی فرقہ وارانہ اور امتیازی سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔ علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے ظالمانہ اقدامات ہر گز انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز خاموش نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ آل خلیفہ رژیم کے دل میں شیعیان اہلبیت علیہم السلام سے پایا جانا والا خوف اور وحشت ہے۔
 
اسلام سے غداری
بحرین اور متحدہ عرب امارات پر حکمفرما عرب شہزادوں نے 2020ء میں ابراہیم معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے اور یوں انہوں نے اسلام سے غداری کرتے ہوئے امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا تھا۔ ان کا یہ اقدام ایسے حالات میں انجام پایا تھا جب غاصب صیہونی رژیم نے مقبوضہ فلسطین، جنوبی لبنان اور گولان ہائٹس پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا تھا۔ یہ اقدام درحقیقت اپنے اقتصادی مفادات کو امت مسلمہ کے وقار اور خودمختاری پر ترجیح دینے کا واضح مصداق ہے۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل سے اتحاد تشکیل دے کر امت مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس معاہدے کے بعد اگرچہ صیہونی حکمرانوں نے غزہ میں لاکھوں بیگناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا لیکن بحرین اور امارات اب بھی اسرائیل کے اتحادی بنے بیٹھے ہیں۔
 
بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ