چینی کا بحران:شوگر ملوں سے متعلق بڑا فیصلہ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ملک میں چینی کے بحران پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے شوگر ملوں سے متعلق بڑا فیصلہ کر لیا ۔
ملک بھر میں چینی کا بحران جاری اور کئی شہروں میں چینی کی فی کلو قیمت 200 روپے سے بھی تجاوز کر گئی ۔
ملک میں چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے گزشتہ دنوں حکومت نے شوگر ملوں سے مذاکرات کے بعد چینی کی ایکس مل اور ریٹیل قیمتیں مقرر کی تھیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔
حکومت نے چینی کی ترسیل میں تاخیر اور معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت نوٹس لیتے ہوئے شوگر ملوں کے تمام ذخائر کی سخت نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر سیکٹر پر اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں چینی کی قیمتوں اور معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ اب شوگر ملز کے تمام ذخائر کی مکمل نگرانی کی جائے گی اور چینی کی قلت کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور مل مالکان کے خدشات پیش کیے۔ اسی اجلاس میں شکایتی کمیٹی بنانے اور واٹس ایپ گروپ بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے واضح کیا کہ چینی کی قیمت اور فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور شوگر سیکٹر کے مسائل روزانہ کی بنیاد پر حل کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صارفین اور صنعت دونوں کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔ خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف فوری ایکشن ہوگا۔
واضح رہے کہ حکومت نے چینی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس حوالے سے ٹینڈر بھی جاری کیا تھا۔ تاہم کسی نے بھی بولی کے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ بعد ازاں حکومت نے ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد کے لیے ایک اور ٹینڈر جاری کیا۔
دوسری جانب حکومتی چھاپوں کیخلاف دکانداروں نے چینی کی فروخت بند کر دی جس سے کئی شہروں میں بحران مزید بڑھ گیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شوگر ملوں میں چینی حکومت نے چینی کی کے لیے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔