چینی وزارت خارجہ کا تائیوان انتظامیہ کے عہدیدار کے دورہ جاپان کے حوالے سے سخت تحفظات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے یومیہ پریس کانفرنس میں تائیوان کے خارجہ امور کے شعبے کے سربراہ کے حالیہ دورہ جاپان اور متعدد جاپانی سیاستدانوں سے ملاقاتوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ جاپان نے لین جیالونگ کو دورہ جاپان کی اجازت دے کر’’تائیوان کی علیحدگی‘‘ کی حامی قوتوں کو چین مخالف علیحدگی پسند سرگرمیوں کا موقع فراہم کیا، جس نے بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں اور چین اور جاپان کے درمیان چار سیاسی دستاویزات کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی اور ایک سنگین غلط پیغام دیا ہے ۔ چین نے اس پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کیا اور سختی سے اس کی مخالفت کی ہے، اورجاپانی فریق سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے ۔ گو جیاکھون نے نشاندہی کی کہ تائیوان چین کا ایک اٹوٹ حصہ ہے ، اور تائیوان کا معاملہ چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے ، جو چین جاپان تعلقات کی سیاسی بنیاد اور دونوں ممالک کے مابین بنیادی اعتماد سے متعلق ہے۔ چین جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ چار سیاسی دستاویزات کی روح اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، تائیوان کے معاملے پر قول و فعل میں محتاط رہے، کسی بھی شکل میں چین کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے، تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کو کوئی غلط اشارہ نہ دے، اور قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے چینی عوام کے مضبوط عزم، پختہ ارادے اور مضبوط صلاحیت کو نظر انداز نہ کرے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔