data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:۔ پاکستان سمیت 16 ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان، بنگلادیش، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، آئرلینڈ، لیبیا، ملائیشا، مالدیپ، میکسیکو، عمان، قطر، سلوینیا، ساﺅتھ افریقا، اسپین اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں گلوبل صمود فلوٹیلا کی سکیورٹی پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اس فلوٹیلا میں مذکورہ ممالک کے شہری شریک ہیں جو ایک سول سوسائٹی کی کاوش ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا نے اپنے مقاصد کے طور پر غزہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے اور فلسطینی عوام کی سنگین ضروریات و غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے شعور اجاگر کرنے کوشش کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ امن، انسانی ہمدردی کی امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی قوانین خصوصا انسانی ہمدردی کے قوانین کا احترام ہمارے مشترکہ مقاصد ہیں۔ وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ فلوٹیلا کے خلاف کسی بھی غیر قانونی یا پرتشدد کارروائی سے گریز کیا جائے اور بین الاقوامی قوانین اور انسانی ہمدردی کے قوانین کا احترام کیا جائے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ فلوٹیلا کے شرکا کے انسانی حقوق یا بین الاقوامی قوانین کی کسی بھی خلاف ورزی بشمول بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر حملہ یا غیر قانونی حراست کی صورت میں ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گلوبل صمود فلوٹیلا بین الاقوامی

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ