پاکستان سمیت 16 ممالک کا فلوٹیلا کی سلامتی پر اظہارِ تشویش
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان سمیت 16 ممالک نے غزہ میں امداد پہنچانے والے جہاز فلوٹیلا کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پاکستان اور دیگر 15 ممالک نے مشترکہ بیان میں غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد لے جانے والی کشتیوں کے قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا کی سیکیورٹی پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان وزرائے خارجہ نے جنگ بندی اورغزہ میں انسانی ضروریات اجاگر کرنے کی ضرورت، عالمی اور انسانی قانون کے احترام پر زور دیا ہے۔
نیکوسیا غزہ کے لیے امدادی جہاز کا انتظام کرنے والے.
دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ فلوٹیلا کے خلاف کسی غیر قانونی یا پرتشدد اقدام سے باز رہنے کی اپیل کرتے ہیں، جہازوں پر حملہ یا غیر قانونی حراست بین الاقوامی قانون کے خلاف ورزی ہو گی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر جوابدہی لازم ہو گی۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان ممالک میں پاکستان سمیت بنگلادیش، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، آئرلینڈ، لیبیا، ملائیشیا، مالدیپ، میکسیکو، عمان، قطر،جنوبی افریقہ، اسپین اور ترکیہ شامل ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے ثابت قدم امدادی بحری بیڑے میں ان تمام ممالک کے شہری شریک ہیں، فلوٹیلا کے مقاصد میں فلسطینی عوام کی فوری انسانی ضروریات کے متعلق آگاہی پھیلانا بھی شامل ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق غزہ جنگ بندی پر زور دینا بھی اس ’عالمی ثابت قدم فلوٹیلا‘ کے مقاصد میں سرِفہرست ہے، فلوٹیلا کے خلاف کسی بھی غیر قانونی یا پرتشدد اقدام سے گریز کی اپیل کرتے ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا کے معاملے پر بین الاقوامی قانون و انسانی ہمدردی کے قوانین کے احترام کی اپیل بھی کرتے ہیں، فلوٹیلا کے شرکاء کے انسانی حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی پر احتساب کیا جائے گا، بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر حملے یا غیر قانونی حراست کا بھی احتساب کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خارجہ کے ترجمان فلوٹیلا کے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔