جاپان سمیت دیگر ممالک سے کتنی گاڑیاں امپورٹ اور کتنی ایکسپورٹ کی جاتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ملک بھر میں گاڑیوں کی بڑھتی قیمتوں اور دوسرے ممالک میں کم قیمت میں اچھی گاڑیوں کی دستیابی کے باعث جاپان سمیت دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں گاڑیاں امپورٹ کی جا رہی ہیں، جبکہ چند برس سے پاکستان نے اپنی گاڑیاں بھی مختلف ممالک کو ایکسپورٹ کرنا شروع کی ہیں۔ سال 2020 سے 2025 تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 57 ہزار 960 استعمال شدہ گاڑیاں امپورٹ کی گئی ہیں، جبکہ اسی عرصے میں بیرونِ ملک 248 گاڑیاں ایکسپورٹ کی گئی ہیں۔
سینیٹ سیکرٹریٹ میں وزارت خزانہ کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق:
سال 2020 میں 19 ہزار 392 گاڑیاں،
سال 2021 میں 36 ہزار 373،
سال 2022 میں 20 ہزار 173،
سال 2023 میں 19 ہزار 523،
سال 2024 میں 38 ہزار 472،
اور سال 2025 کے پہلے 6 ماہ میں 24 ہزار 20 استعمال شدہ گاڑیاں امپورٹ کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایک کے بعد ایک اسکینڈل، محکمہ لائیو اسٹاک کی 80 گاڑیاں غائب ہونے کا انکشاف
ان 5 برس میں سب سے زیادہ گاڑیاں جاپان سے، یعنی ایک لاکھ 55 ہزار 288، امپورٹ کی گئی ہیں۔ اس کے بعد:
جمیکا سے 1 ہزار 85،
برطانیہ سے 865،
جرمنی سے 257،
اردن سے 173،
امریکا سے 79،
چین سے 65،
آسٹریلیا سے 48،
متحدہ عرب امارات اور تھائی لینڈ سے 8-8،
اٹلی سے 6،
فرانس سے 3،
اور میکسیکو سمیت 7 دیگر ممالک سے ایک ایک گاڑی امپورٹ کی گئی ہے۔
پاکستان سے مقامی طور پر تیار کی جانے والی کمپنیوں کی گاڑیوں کی ایکسپورٹ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 2021 سے 2025 تک کل 248 گاڑیاں ایکسپورٹ کی گئی ہیں، جن میں:
سال 2021 میں 20،
سال 2022 میں 19،
سال 2023 میں 47،
سال 2024 میں 70،
اور سال 2025 میں 92 گاڑیاں شامل ہیں۔
سب سے زیادہ گاڑیاں جاپان کو (151)، کینیا کو 20، سولومون آئی لینڈ کو 26، تھائی لینڈ کو 15، بنگلہ دیش کو 6 اور دیگر ممالک کو چند گاڑیاں ایکسپورٹ کی گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برآمد جاپان درآمد گاڑیاں گاڑیاں امپورٹ گاڑیاں ایکسپورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاپان گاڑیاں گاڑیاں امپورٹ گاڑیاں ایکسپورٹ گاڑیاں امپورٹ امپورٹ کی گئی ایکسپورٹ کی دیگر ممالک کی گئی ہیں
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔