چین کا تائیوان انتظامیہ کے حکام کے دورہ جاپان پر شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کے ایشیائی محکمہ کے ڈائریکٹر لیو جن سونگ نے چین میں جاپانی سفارت خانے کے چیف منسٹر اکیرا یوکوجی کو ہنگامی طور پر طلب کیا اور تائیوان انتظامیہ کے خارجہ امور کے شعبے کے سربراہ لین جیالونگ کے دورہ جاپان کے خلاف پرزور احتجاج کیا اور اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔لیو جن سونگ نے کہا کہ تائیوان کا معاملہ چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے جو چین جاپان تعلقات کی سیاسی بنیاد اور دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اعتماد سے متعلق ہے۔ جاپانی فریق نے لین جیا لونگ کو دورہ جاپان کی اجازت دی تاکہ انہیں چین مخالف علیحدگی پسند سیاسی سرگرمیوں کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے ، یہ ایک سنگین حد تک غلط پیغام ہے ۔ اس سال جاپانی جارحیت اور عالمی فاشسٹ مخالف جنگ کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ کی فتح کی 80 ویں سالگرہ ہے ، اور تائیوان کی آزادی کی 80 ویں سالگرہ بھی ہے۔ چین جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ چین -جاپان چار سیاسی دستاویزات کی روح اور تائیوان کے معاملے پر کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے اور اس فیصلے کے منفی اثرات کو ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔