(فیلڈ مارشل کا دورہ چین، سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں )ہائبرڈ اور روایتی خطرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
بیجنگ ، فیلڈ مارشل کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق،دونوں رہنمائوں کااسٹرٹیجک پارٹنرشپ آگے بڑھانے میں فورسز کے کردار پر اعتماد کا اظہار
سی پیک میں تعاون،جغرافیائی و سیاسی چیلنجز خطے ، عالمی سیاسی منظرنامے کی بدلتی صورتحال،مشترکہ جیوپولیٹیکل چیلنجز سے نمٹنے کی مربوط حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ، آئی ایس پی آر
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دورہ چین کے دوران چین کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں کثیر الجہتی تعاون اور علاقائی استحکام کیلئے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا، یہ ملاقاتیں پاکستان اور چین کے درمیان آہنی سٹریٹیجک شراکت داری کے عزم کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنیں گی، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپہ سالار پاکستان، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے عوامی جمہوریہ چین کا اہم سرکاری دورہ کیا جس میں انہوں نے چین کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔چین کی سیاسی اور عسکریت قیادت سے ملاقاتوں میں باہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ خودمختاری، مختلف شعبوں میں تعاون اور علاقائی استحکام کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے چینی نائب صدر ہان ژینگ اور وزیر خارجہ وانگ ژی سے علیحدہ ملاقاتیں کیں جن میں خطے اور عالمی سیاسی منظرنامے کی بدلتی صورتحال، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت روابط کے منصوبے اور مشترکہ جیوپولیٹیکل چیلنجز سے نمٹنے کی مربوط حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے چین کے نائب صدر اور خارجہ وزیر سے ملاقاتوں کے دوران علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ ملاقاتوں میں سی پیک میں تعاون اور جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کے حوالے سے بھی بات چیت اورمشترکہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا۔ فریقین نے دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی پر اطمینان کا اظہار کیا۔چینی قیادت نے جنوبی ایشیا میں امن اقدامات میں پاک فوج کے کردار کی اہمیت کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیٔرمین سے بھی ملاقات کی۔ چین کی پی ایل اے کے سیاسی امور کے سربراہ اور چیف آف سٹاف سے بھی ملاقات ہوئی۔جنرل سید عاصم منیر کو پی ایل اے آرمی ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل کی چین میں ملاقاتوں کے دوران دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون، مشترکہ تربیتی امور زیرغٖور آئے، دفاعی شعبے میں جدت اور ادارہ جاتی رابطوں کو بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں ہائبرڈ اور روایتی خطرات سے نمٹنے کیلئے دفاعی تعاون بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ فیلڈ مارشل کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان گہرے سیاسی و عسکری تعلقات کا عکاس ہے اور خطے میں امن و استحکام کیلئے دونوں ممالک کے قریبی رابطے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر تبادلہ خیال سے نمٹنے کی فیلڈ مارشل میں تعاون کے مطابق قیادت سے کیا گیا نے چین چین کے چین کی
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک غلط اندازہ یا ایک بے قابو فوجی کارروائی پورے مشرقِ وسطی کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اب صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا اسلام آباد کا دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ون آن ون ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور موجودہ جنگی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس وقت کا انتخاب خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم رابطہ کار اور ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز، عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اگر اس تنا میں حوثی تحریک اور سعودی عرب براہِ راست آمنے سامنے آ جاتے ہیں تو پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسی صورتِ حال لازما “منی ورلڈ وار” میں تبدیل ہو جائے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر متعدد علاقائی اور بین الاقوامی فریق براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو گئے تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ایسے حالات میں پاکستان کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکہ اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔ یہی متوازن تعلقات اسلام آباد کو ایسے ممالک میں شامل کرتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔گزشتہ مہینوں میں بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ ایرانی وزیر داخلہ براہِ راست اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی خطے کے دارالحکومتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ کسی نئی ثالثی یا معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے متوازن خارجہ تعلقات کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔دنیا کو اس وقت جنگی نعروں سے زیادہ امن کے پیغام کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطی پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے، اور ایک نئی وسیع جنگ نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔آج اسلام آباد صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ امید کی ایک ممکنہ کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت، متوازن پالیسی اور تمام فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں بروئے کار لاتا ہے تو وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔تاریخ میں بعض اوقات جنگیں طاقت سے نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری سے رکی ہیں۔ شاید یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں بندوقوں کی گھن گرج سے زیادہ اہمیت مذاکرات کی میز کو حاصل ہو سکتی ہے۔مشرقِ وسطی کی موجودہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو صرف میزائلوں کا تبادلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگوں پر منڈلاتا ہوا خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ چکی ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں یا وہاں سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف باب المندب بھی حوثی کارروائیوں کے باعث غیر محفوظ ہو جاتا ہے، تو دنیا ایک غیر معمولی تیل و گیس بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ خطرہ محض عالمی خبروں تک محدود نہیں۔ سعودی عرب سے آنے والے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم حصہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے بحری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر ان آئل ٹینکروں پر حملے شروع ہو جاتے ہیں یا جہاز رانی شدید متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو ایندھن کی سپلائی، درآمدی لاگت، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے بحران جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سفارتی توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ہے، دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست، اہم اقتصادی شراکت دار اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا بڑا ملک ہے۔ اسلام آباد کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا تقاضا ہے۔ایران اور یمن کے حوثی رہنماں کو بھی پاکستان کی اس مجبوری اور حساس پوزیشن کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان آنے والے توانائی کے بحری راستے متاثر ہوں یا پاکستان کے مفادات براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں، تو خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطی ایک وسیع تر بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان اپنی متوازن سفارت کاری، علاقائی اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ کے شعلوں کو پھیلنے سے روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیل گیا تو اس کی تپش صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ واقعی آگ کے الا میں تبدیل ہو سکتا ہے۔