قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ہسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے 71 افراد میں امداد کے منتظر 42 فلسطینی بھی شامل ہیں، شہید فلسطینیوں کی تعداد 59 ہزار 700 سے تجاوز کرگئی جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 44 ہزار 477 ہوگئی۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ پر وحشیانہ حملے جاری ہیں اور بمباری میں مزید 71 فلسطینی شہید ہوگئے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ہسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے 71 افراد میں امداد کے منتظر 42 فلسطینی بھی شامل ہیں، شہید فلسطینیوں کی تعداد 59 ہزار 700 سے تجاوز کرگئی جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 44 ہزار 477 ہوگئی۔ دوسری جانب غذائی قلت اور بھوک سے شیر خوار بچوں سمیت کئی اور فلسطینی دم توڑ گئے، بھوک کی شدت سے شہید ہونے والوں کی تعداد 127 ہوگئی جن میں 85 بچے بھی شامل ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق غزہ کی ایک تہائی آبادی کئی روز سے خوراک سے محروم ہے، یو ایس ایڈ کے مطابق حماس کی جانب سے امریکی فنڈ کی فراہم کردہ امداد کی چوری کے شواہد نہیں ملے۔ علاوہ ازیں امریکا ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی تباہ کن بھوک اور تکلیف کو دیکھنا دل توڑ دینے والا کام ہے، غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن کی حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہوئی، انہوں نے محصور علاقے میں فوری اور بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے سربراہوں نے اسرائیل سے امداد پر پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا جسے اسرائیل نے حسب سابق یکسر نظرانداز کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی تعداد

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم