پاک فوج کا کیپٹن محمد سرور شہید (نشانِ حیدر) کو 77ویں یومِ شہادت پر خراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
مسلح افواجِ پاکستان آج کیپٹن محمد سرور شہید (نشانِ حیدر) کی 77ویں برسی نہایت عقیدت و احترام سے منا رہی ہیں۔ کیپٹن سرور شہید 27 جولائی 1948 کو آزاد کشمیر کے محاذِ جنگ پر مادرِ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
کیپٹن محمد سرور شہید کو پاکستان کے سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز ‘نشانِ حیدر’ کا پہلا حقدار ہونے کا شرف حاصل ہے۔ انہوں نے پہلی کشمیر جنگ کے دوران تلپترا کے محاذ پر دشمن کے سامنے بے مثال جرات، قیادت اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان وطن پر قربان کر دی۔
یہ بھی پڑھیے: شہدا کے خون کا قرض پوری قوم پر ہے، وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حوالدار لالک جان شہید (نشانِ حیدر) کو خراجِ عقیدت
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی بے مثال قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیپٹن سرور شہید کی بہادری اور قربانی افواجِ پاکستان کے لیے حوصلے، عزم اور حب الوطنی کی دائمی علامت ہے۔ ان کی زندگی ہمارے عسکری اقدار فرض، عزت، اور حتمی قربانی کا عملی نمونہ ہے۔
مسلح افواج نے اس موقع پر ایک بار پھر عہد کیا ہے کہ وہ شہداء کے عظیم ورثے سے طاقت لیتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں نبھاتے رہیں گے۔
آئی ایس پی آر ککے مطابق مسلح افواجِ پاکستان کیپٹن محمد سرور شہید (نشانِ حیدر) جیسے عظیم شہداء کے عظیم ورثے سے حوصلہ پاتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل عزم کی تجدید کرتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک فوج جنگ کشمیر شہدا قربانی کیپٹن سرور شہید نشان حیدر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک فوج کیپٹن سرور شہید کیپٹن محمد سرور شہید کے لیے
پڑھیں:
200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔
انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔
مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔