سابق کرکٹر اظہر الدین بھارتی ریاست تلنگانہ کی کابینہ کے پہلے مسلم وزیر بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
بھارت کے عالمی شہرت یافتہ سابق کرکٹر، کپتان اور بلے باز محمد اظہر الدین نے اپنی نئی اننگ کا شاندار آغاز کردیا۔
مایہ ناز بیٹر محمد اظہرالدین نے جہاں کھیل کے میدان میں چھکوں اور چوکوں کی برسات جاری رکھی تھیں وہیں سیاست کے میدان میں بھی بڑوں بڑوں کے چھکے چھڑا دیئے۔
محمد اظہر الدین کی سیاسی وابستگی کانگریس کے ساتھ ہیں جس کے ٹکٹ پر وہ ریاستی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔
اظہر الدین نے جس طرح کرکٹ کے مداحوں کو کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح حلقے کے عوام کی امنگوں پر بھی اترے۔
یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے محمد اظہر الدین کو ریاست تلنگانہ کی کابینہ میں بھی اہم ذمہ داری سونپ دی۔ انھوں نے وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
اظہرالدین نے اللہ کے نام پر حلف اٹھایا اور تقریب کے اختتام پر جے تلنگانہ اور جے ہند کے نعرے لگائے۔
ان کے بیٹے اسد الدین اظہر جو حال ہی میں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے ہیں بھی تقریب میں شریک تھے۔
اظہرالدین کو اقلیتی امور کا قلمدان دیا جانے کا امکان ہے۔ وہ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کی کابینہ میں شامل ہونے والے پہلے مسلمان وزیر ہیں۔
ذرائع کے مطابق اظہرالدین کو اقلیتی بہبود کا قلمدان دیا جانے کا امکان ہے۔
اظہرالدین کی کابینہ میں شمولیت پر بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
تلنگانہ میں بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ نے اسے انتخابی خوشامدانہ سیاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ جوبلی ہلز کے مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے کیا گا جہاں ضمنی الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔
بی جے پی نے اس معاملے پر چیف الیکشن آفیسر کو باضابطہ شکایت بھی درج کرائی ہے۔
تاہم اظہرالدین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میری تقرری کا ضمنی انتخاب سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے کسی کو بھی اپنے حب الوطنی کے ثبوت دینے کی ضرورت نہیں۔
اظہرالدین کا کرکٹ سے سیاست تک سفر
محمد اظہرالدین 8 فروری 1963 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 99 ٹیسٹ میچوں میں 6,215 رنز بنائے اور 22 سنچریاں اسکور کیں جبکہ 334 ون ڈے میچوں میں 9,378 رنز ان کے نام ہیں۔
اظہر الدین 90 کی دہائی میں بھارت کے سب سے کامیاب کپتانوں میں شمار کیے جاتے تھے تاہم 2000 میں میچ فکسنگ اسکینڈل کے باعث ان پر تاحیات پابندی لگا دی گئی۔
بعد ازاں آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے 2012 میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
تاہم وہ 2009 میں سیاست میں قدم رکھ چکے تھے اور ریاست اتر پردیش کے شہر مراد آباد سے کانگریس کے ٹکٹ پر رکنِ پارلیمان منتخب ہوئے۔
2023 میں انہوں نے جوبلی ہلز سے اسمبلی الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ بعد ازاں انہیں گورنر کوٹے کے تحت تلنگانہ کی قانون ساز کونسل کا رکن نامزد کیا گیا۔
اظہرالدین اس وقت تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریزیڈنٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اظہر الدین کی کابینہ الدین نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔
لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے
دونوں قائدین نے مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔
مزید :