شہدائے پاکستان کو سلام، کیپٹن عاقب جاوید شہید کی چھٹی برسی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
شہدائے پاکستان کو سلام، کیپٹن عاقب جاوید شہید کی چھٹی برسی ہے جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی وطن کی مٹی نے پکارا، ہمارے جوانوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر لبیک کہا۔
کیپٹن عاقب جاوید بے باک، نڈر اور وطن پر مر مٹنے کا عزم رکھنے والے جانباز مجاہد تھے جہنوں نے وطنِ عزیز کی خاطر شہادت کو گلے لگایا۔
کیپٹن عاقب جاوید 26 جولائی 2019 کو بلوچستان کے علاقے آواران تُربت میں دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے، کیپٹن عاقب جاوید شہید نے سوگواران میں ایک بہن اور والدین چھوڑے۔
کیپٹن عاقب جاوید شہید کے اہلِ خانہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عاقب کے یونٹ آفسر نے کال کر کے اس کی شہادت کی خبر دی، کیپٹن عاقب جاوید شہید کے والد نے کہا کہ ہمیں اس کے بچھڑنے کا غم ہے لیکن خوشی ہے کہ میرے بیٹے نے اس ملک لئے جامِ شہادت نوش کیا۔
کیپٹن عاقب جاوید شہید کے والد نے کہا کہ عاقب بہت ہونہار طالبِ علم تھا، اس نے ہر جگہ ہمارا نام روشن کیا، عاقب بہت ملنسار تھا رشتے داروں سے بہت پیار اور عزت سے پیش آتا تھا، عاقب کے ساتھ گزارہ ہوا ہر ایک لمحہ بہت یادگار ہے، جو اس ملک کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ان کی عزت کریں، میرا بیٹا بہت قابل اور محنتی تھا۔
کیپٹن عاقب جاوید شہید کی والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے نے اپنے ملک کے لئے اپنی جان قربان کی، میرا بیٹا ہمارا اور اپنے بہن بھائی کا بہت خیال رکھتا تھا، عاقب کی یادیں ہمشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، نوجوان کے لئے ہمارا پیغام ہے کہ ہر وقت اپنے ملک کی دفاع کے لئے تیار رہے۔
کیپٹن عاقب جاوید شہید کی بہن نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا بھائی شہید ہوا اور میں شہید کی بہن ہوں، جب بھی مجھے بھائی کی یاد آتی ہے، وہ میرے خواب میں آ جاتے ہیں، شہداء اور ان کے گھر والوں کی عزت کیا کرے کیونکہ وہ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر اس ملک کی دفاع میں لگے رہتے ہیں۔
مجھے انکی شہادت پر فخر ہے اور اُن کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے، کیپٹن عاقب جاوید شہید وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کر کے آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔