اپنے ایک بیان میں تُرک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ ایران بغیر کسی حملے کے کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ روز استنبول میں 3 یورپی ممالک اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ جس کے بارے میں ترکیہ کے وزیر خارجہ "هاکان فیدان" نے کہا کہ جب مجھے میرے ایرانی ہم منصب "سید عباس عراقچی" نے اطلاع دی کہ ہم نے یورپی ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کے لئے استنبول کا انتخاب کیا ہے تو میں نے اُن سے کہا کہ یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ آپ کسی بھی حالت میں جب چاہیں، استنبول یا کسی اور شہر میں جو کردار آپ چاہیں ہم ادا کریں گے۔ بس اپنے معاملات حل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ہم یہاں سے جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ کریں گے۔ تُرک وزیر خارجہ نے ایران پر اسرائیل کے ممکنہ حملوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انشاءاللہ ایسا نہیں ہو گا، لیکن یہ امکان ہمیشہ موجود ہے۔ ہم محسوس کر رہے ہیں کہ دونوں فریق فی الحال 12 روزہ جنگ سے سیکھے گئے سبق پر شاید عمل کر رہے ہیں۔ ھاکان فیدان نے کہا کہ ہمارے پاس دونوں فریقین کے جانب سے حاصل کئے گئے اسباق کا تقریبا اندازہ ہے۔ وہ ان پر عمل کر رہے ہیں اور جب اسرائیل خاص طور پر اپنے سابقہ تجربے پر غور کرے گا تو شاید وہ حملہ سے قبل رُک کر دوبارہ سوچے۔ دوسری جانب میرا نہیں خیال کہ ایران بغیر کسی حملے کے کارروائی کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی