سٹی42: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے اپنے 17 سینیٹرز کے استعفے جمع کروا دیئے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مجموعی طور پر 17 سینیٹر کے استعفے جمع کرا رہے ہیں، باقی بعد میں آجائیں گے۔
علی ظفر نے کہا کہ سینیٹ کمیٹیوں کے اجلاس ہمارے بغیر بھی چل سکتے ہیں اور چلیں گے، استعفیٰ بطور احتجاج دے رہے ہیں۔
پاکستان سے ایران جانیوالے زائرین کو اغوا کروانے والے نیٹ ورک کا کارندہ گرفتار
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر نے مزید کہاکہ ان استعفوں کے بعد ہمارے سینیٹرز کمیٹی اجلاسوں کا حصہ نہیں ہوں گے۔
بیرسٹر علی ظفر نے خود سمیت سینیٹر اعظم سواتی، سینیٹر فیصل جاوید، نور الحق قادری، مرزا محمد آفریدی، مشعال یوسفزئی، راجا ناصر عباس، عون عباس، فوزیہ ارشد، محسن عزیز کے استعفے جمع کرائے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سینیٹر ذیشان خانزادہ، دوست محمد، محمد ہمایوں مہمند، زرقہ سہروردی، سیف اللّٰہ خان نیازی، فلک ناز اور روبیا ناز کے استعفے شامل ہیں۔
تقریبا 15 ہزار شہریوں کی جیبیں کٹ گئیں
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔