ہم بیت المقدس پر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، رجب طیب اردگان
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں ترکیہ کے صدر کا کہنا تھا کہ جو لوگ بچوں کا خون بہا کر اپنا مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں، وہ آخرکار ناکام ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ترکیہ کے صدر "رجب طیب اردگان" نے غزہ میں فلسطینی عوام کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ "انقرہ" ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس كا دارالحكومت "بیت المقدس" ہو۔ انہوں نے كہا كہ ترکیہ ان لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتے گا جو اس خطے کو خون سے بھرے دریا میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے غزہ کی سنگین صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا كہ ہم اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے خلاف زندہ رہنے کی جدوجہد کرنے والی غزہ کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ رجب طیب اردگان نے بیت المقدس کے مشرقی حصے کے بارے میں ترکیہ کے اصولی مؤقف پر زور دیتے ہوئے کہا كہ ہم اپنے حقوق کے بارے میں کبھی کوئی سودے بازی نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ فلسطین كاز کی حمایت میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے بھرپور جدوجہد کرے گا۔ آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ بچوں کا خون بہا کر اپنا مستقبل محفوظ بنانا چاہتے ہیں، وہ آخرکار ناکام ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔