مسلمان مشرقی یروشلم کے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے، ترک صدر
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ: ترک صدر رجب طیب ایردوان کاکہنا ہے کہ مسلمان مشرقی یروشلم کے حقوق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اسرائیلی حملوں کے شکار فلسطینی عوام کی ہر ممکن مدد جاری رہے گی۔
بین الاقوا می میڈیا رپورٹس کےمطابق ترک وزارتِ خارجہ کی نئی عمارت کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ہم یروشلم کو ناپاک ہاتھوں سے پامال نہیں ہونے دیں گے، چاہے ہٹلر کے مداحوں کی نفرت کبھی ختم نہ ہو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترک قوم کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے صدیوں تک اسلام کا پرچم بلند رکھا اور یروشلم کو چار سو برس تک عزت و وقار کے ساتھ سنبھالا، جہاں مسلم حکمرانی میں عیسائیوں اور یہودیوں کے حقوق بھی محفوظ رہے۔
ایردوان نے کہا کہ ترکیہ کی جدوجہد یروشلم کو امن، سلامتی اور ہم آہنگی کا شہر بنانے کے لیے جاری ہے اور یہ سلسلہ کسی وقفے یا پسپائی کے بغیر آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے جس کی سرحدیں 1967 کی بنیاد پر ہوں اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ یروشلم مکہ اور مدینہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے روحانی مرکز ہے، کوئی بھی ہمیں غزہ کے مظلوم عوام کا ساتھ دینے سے روک نہیں سکتا جو اسرائیلی بربریت کے خلاف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
ترک صدر کاکہنا تھا کہ ترکیہ آج بھی اور کل بھی ان قوتوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑا رہے گا جو خطے کو خون میں نہلانے اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں،انقرہ شام سے یمن، لبنان سے قطر تک اسرائیلی جارحیت کا شکار عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ “جو لوگ معصوم بچوں کے خون کے عوض ظلم و نسل کشی کے ذریعے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، وہ بالآخر اپنے ہی بہائے ہوئے خون میں ڈوب جائیں گے۔
ایردوان نے کہا کہ خطہ روزانہ نئے بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے لیکن ترکیہ ان چیلنجز کو اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ کیے بغیر عزم کے ساتھ سنبھال رہا ہے،ترکیہ بلقان سے وسطی ایشیا، افریقہ سے لاطینی امریکا اور یورپ سے ایشیا پیسفک تک استحکام، تعاون اور بھائی چارے کو فروغ دے رہا ہے۔
انہوں نے وزارتِ خارجہ کی نئی عمارت کو ترکیہ کے عالمی کردار کی ایک جدید علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ کمپلیکس ملکی سفارت کاری کی یادداشت، حال اور مستقبل کو ایک چھت کے نیچے لے آئے گا اور انقرہ کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
ارجنٹائن کے فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کے بارے میں ایک حیران کن پیشگوئی ہوئی ہے کہ وہ آئندہ پانچ برس کے اندر ارجنٹائن کے صدر بن سکتے ہیں۔
چینی ماہر تعلیم اور تجزیہ کار جیانگ شوئیکن نے یہ دعویٰ متنازع آن لائن کانٹنٹ کریئٹر سنیکو کے کِک پلیٹ فارم پر ایک گفتگو کے دوران کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ لیونل میسی ارجنٹائن کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے اور آسانی سے کامیاب ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فٹبالر 20 برس تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں کیونکہ لوگ انہیں پسند کریں گے اور غلط فیصلے کرنے پر بھی معاف کر دیں گے۔
یہ پیشگوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میسی نے 39 برس کی عمر میں ارجنٹائن کو مسلسل دوسری بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچایا۔ اگرچہ فائنل میں اسپین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم شائقین کے نزدیک ان کی حیثیت بدستور ناقابلِ تردید ہے۔
واضح رہے کہ لیونل میسی کی جانب سے سیاست میں آنے یا صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، اور یہ دعویٰ محض ایک تجزیہ کار کی ذاتی پیشگوئی ہے، جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔