محمود خلیل کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف دو کروڑ ڈالر کا مقدمہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 جولائی 2025ء) کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محمود خلیل، جنہوں نے فلسطین کی حمایت میں یونیورسٹی کیمپس کے اندر احتجاجی مظاہروں میں نمایاں کردار ادا کیا، نے جمعرات کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف 20 ملین ڈالر کا دعویٰ دائر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں غلط طور پر قید کیا گیا تھا۔
محمود خلیل، قانون کے مطابق، ایک امریکی باشندے ہیں، جنہیں مارچ میں اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کالجوں کے کیمپس میں فلسطینی حامی احتجاجی تحریک میں ملوث غیر ملکی طلباء کو ملک بدر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خلیل کو جون میں رہائی سے قبل تین ماہ تک لوزیانا کے ایک امیگریشن حراستی مرکز میں رکھا گیا، پھر عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد ان کی رہائی ہوئی۔
(جاری ہے)
محمود خلیل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، "مجھے امید ہے کہ یہ (کیس) انتظامیہ کے لیے رکاوٹ کا کام کرے گا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ صرف پیسے کی ہی زبان سمجھتے ہیں۔"
امریکہ میں سال 2023 میں مسلم مخالف واقعات میں ریکارڈ اضافہ
خلیل کا دعویٰ کیا کہتا ہے؟کولمبیا کے گریجویٹ کے حامی ادارے 'سینٹر فار کانسٹیٹیوشنل رائٹس' کے مطابق اس کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ خلیل کو "بد نیتی پر مبنی قانونی کارروائی، طریقہ کار کے غلط استعمال، غیر قانونی گرفتاری، غلط قید اور غفلت نیز انہیں دانستہ جذباتی ٹھیس پہنچانے کا شکار بنایا گیا۔
"اس مرکز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے خلیل کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا، حراست میں لیا اور ملک بدر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ سب "اس طریقے سے کیا گیا، جیسے انہیں اور ان کے خاندان کو دہشت زدہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔"
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کی طرف سے ان کے ساتھ ناروا سلوک کے سبب انہیں "شدید جذباتی پریشانی، معاشی مشکلات اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
اور یہ کہ اس کی وجہ سے انہیں پہلی اور پانچویں آئینی ترمیم کے تحت جو حقوق حاصل تھے، وہ بری طرح سلب" ہونے کا باعث بنے۔ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے خلیل کے دعوے کو "مضحکہ خیز" قرار دیا اور ان پر "نفرت آمیز رویے اور ایسی بیان بازی" کا الزام لگایا، جس سے امریکہ میں یہودی طلبہ کو خطرہ تھا۔
غزہ کی جنگ امریکی اسرائیلی تعلقات کا امتحان بھی
خلیل کو کیوں گرفتار کیا گیا؟محمود خلیل غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے خلاف طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔
وائٹ ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ خلیل قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جو اسرائیل پر اپنی تنقید کے ساتھ "یہود مخالف سرگرمیوں" میں ملوث ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ خلیل کی ملک بدری جائز ہے کیونکہ اگر وہ امریکہ میں رہتے ہیں تو خارجہ پالیسی کے "ممکنہ طور پر سنگین منفی نتائج" مرتب ہوں گے۔
فلسطین کی مکمل رکنیت کے لیے اقوام متحدہ میں ووٹنگ آج
محمود خلیل نے مزید کیا کہا؟محمود خلیل شام میں پیدا ہوئے تھے اور الجزائر کے شہری ہیں۔
جمعرات کے روز انہوں نے دائر کردہ مقدمے کے حوالے سے کہا کہ یہ دعویٰ "احتساب کی طرف پہلا قدم ہے۔"انہوں نے کہا، "104 دنوں کے دوران جن چیزوں سے مجھے محروم کردیا گیا، اسے کوئی بھی چیز بحال نہیں کر سکتی۔ میری بیوی سے علیحدگی کا صدمہ اور میرے پہلے بچے کی پیدائش کا یادگار لمحہ، جس سے مجھے محروم ہونا پڑا۔"
خلیل نے مزید کہا، "سیاسی انتقامی کارروائیوں اور طاقت کے غلط استعمال کے لیے احتساب ہونا چاہیے۔
"امریکی یونیورسٹیوں میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے جاری
انہوں نے کہا کہ وہ پیسے کے بدلے اس معاملے میں سرکاری طور پر معافی کو قبول کر سکتے ہیں اور حکومت کے اس عہد کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہیں کہ وہ رقم کے بجائے گرفتاریوں، حراست یا ملک بدری کے ذریعے فلسطینی حامی تقریر کو نشانہ بنانا بند کر دے۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ٹرمپ انتظامیہ محمود خلیل خلیل کو کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.