سعودی عرب میں شامی جڑواں بچیوں کی کامیاب علیحدگی، انسانیت اور میڈیکل سائنس کی نئی مثال
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
سعودی عرب نے ایک بار پھر طبى مہارت اور انسانی ہمدردی کی روشن مثال قائم کرتے ہوے شام سے تعلق رکھنے والی جڑواں بچیوں سیلین اور ایلین کو کامیابی سے علیحدہ کردیا۔
دونوں بچیاں جن کی عمر ایک سال اور 5 ماہ تھی، پیدائشی طور پر جسم کے نچلے حصے سے جڑی ہوئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:ریاض: جُڑی ہوئی سعودی جڑواں بچیوں یارا اور لارا کی کامیاب علیحدگی، مجموعی تعداد 65 ہو گئی
یہ پیچیدہ آپریشن 8 گھنٹے تک جاری رہا، اور شاہ عبداللہ اسپیشلسٹ چلڈرن اسپتال (شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی برائے نیشنل گارڈ، ریاض) میں انجام پایا۔
اس اہم جراحی کی قیادت معروف سعودی سرجن اور کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے نگرانِ اعلیٰ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے کی، جنہیں دنیا بھر میں جُڑواں بچوں کی علیحدگی کے شعبے میں قائدانہ مقام حاصل ہے۔
یہ کامیاب آپریشن سعودی پروگرام برائے علیحدگی جڑواں بچوں کے تحت انجام پایا، جو 1990 سے جاری ہے۔
اب تک اس پروگرام کے تحت 27 ممالک سے آئے ہوئے 150 سے زائد کیسز کا جائزہ لیا جا چکا ہے، جن میں 65 کامیاب علیحدگیوں کا عملی مظاہرہ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تین جوڑی جڑواں بھائی حجاج کی خدمت میں سرگرم، منفرد ریکارڈ قائم
اسی پروگرام کے تحت سنہ 2016 میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی جڑواں بچیوں مشاعل اور فاطمہ کو بھی کامیابی سے علیحدہ کیا گیا تھا۔
دونوں بچیاں سینے اور پیٹ کے نچلے حصے سے جُڑی ہوئی تھیں، اور اُن کا مشترکہ وزن 20 کلوگرام تھا۔
یہ آپریشن بھی خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی ہدایت پر انجام دیا گیا تھا، جنہوں نے ان بچیوں اور ان کے والدین کو سعودی عرب میں میزبانی دینے کا حکم دیا تھا۔
سیلین اور ایلین کی حالیہ علیحدگی نہ صرف ان کے خاندان کے لیے نئی زندگی کا دروازہ کھولتی ہے، بلکہ سعودی عرب کی بین الاقوامی طبّی ساکھ اور انسان دوستی کے عزم کی بھی تازہ گواہی دیتی ہے۔
یہ پروگرام دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہے، جو تمام طبّی، رہائشی اور سفری سہولیات سعودی حکومت کی جانب سے مفت فراہم کرتا ہے، خواہ مریض کسی بھی قوم یا ملک سے تعلق رکھتا ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جڑواں بچیاں سعودی عرب سیلین اور ایلین شام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔