کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں دھڑ جڑے بچوں کو الگ کرنے کے آپریشن کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں دھڑ جڑے بچوں کو الگ کرنے کے آپریشن کا آغاز WhatsAppFacebookTwitter 0 27 July, 2025 سب نیوز
ریاض(سب نیوز) کنگ سلیمان ریلیف سنٹر کے زیر اہتمام کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں شامی جڑواں بچوں سیلائن اور ایلین عبدالمنیم الشبلی کو الگ کرنے کے پیچیدہ آپریشن کا آغاز۔سعودی پریس ایجنسی کو ایک بیان میں ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ شامی جڑواں بچوں کا خاندان لبنان میں مقیم پناہ گزین ہیں، ان کی ماں تین بچوں سے حاملہ تھی ،جن میں دو جڑی ہوئی لڑکیاں اور ایک صحت مند بچہ شامل تھا ۔
بچوں کی پیدائش 28فروری 2024 کو بیروت میں سیزرین سیکشن کے ذریعے ہوئی تھی، جڑواں بچوں کی عمر اس وقت ایک سال اور پانچ ماہ ہے، ان کا مجموعی وزن 14 کلو گرام ہے۔جڑے ہوئے بچے 29 دسمبر 2024 کو وزارت خارجہ اور دفاع کے درمیان مربوط کوششوں کے ذریعے سعودی عرب پہنچے تھے ۔طبی ٹیم کے ساتھ متعدد مشاورتوں اور جامع معائنے کے بعد یہ طے پایا کہ جڑواں بچوں کو سینے اور پیٹ کے نچلے حصے جڑا ہوا تھا ۔ یہ آپریشن تقریبا نو گھنٹے تک جاری رہنے کی توقع ہے اور اسے چھ مراحل میں انجام دیا جائے گا۔
جراحی کی ٹیم میں نرسنگ اور تکنیکی عملے کے ساتھ ساتھ 24 کنسلٹنٹس اور ماہرین شامل ہیں، جن میں اینستھیزیا، پیڈیاٹرک سرجری، پلاسٹک سرجری، اور دیگر معاون شعبوں جیسی خصوصیات شامل ہیں۔ ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ شام سے جڑواں بچوں کو الگ کرنے کا چوتھا آپریشن ہے، گزشتہ 35سالوں میں، طبی ٹیم نے 150کیسز کا جائزہ لینے کے بعد 27ممالک سے 65 جڑواں بچوں کو کامیابی سے الگ کیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلند شرح سودکاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں رکاوٹ ہے، زاہد اقبال چوہدری بلند شرح سودکاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں رکاوٹ ہے، زاہد اقبال چوہدری ملک میں پولیو کے 3نئے کیسزرپورٹ ، رواں سال تعداد 17ہو گئی پاکستان فلسطینیوں پر صیہونی مظالم کیخلاف آواز اٹھاتا رہے گا، وزیراعظم کشمیریوں کو بے گھر کر کے شناخت اور زندگی چھینی جا رہی ہے، مشعال ملک عمان میں موجود پاکستانیوں کیلیے اہم خبر، 31 جولائی تک یہ کام ضرور کر لیں پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو پاکستان دیوالیہ ہو جاتا: اسحاق ڈارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کو الگ کرنے بچوں کو کرنے کے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر