اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بلوچستان کے نواحی علاقے لورالائی ژوب شاہراہ پر ایک دلخراش واقعے نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ رات کوئٹہ سے لاہور جانے والی دو بسوں کو راستے میں روکا گیا، جہاں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد بس سے اتارا گیا اور شہید کر دیا گیا

یہ واقعہ صرف محض دہشت گردانہ حملہ نہیں، بلکہ نسلی بنیاد پر دہشت گردی کی ایک وجہ سے منسوب جرم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ حملہ آوروں نے خاص طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کو ہدف بنایا ۔

وسیم عباسی نے کیا انکشاف کیا؟
سینئر صحافی وسیم عباسی نے اپنے حالیہ پوڈکاسٹ میں بتایا کہ یہ حملہ نہاد سیاسی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے:

انہوں نے کہا کہ فتنتہ الہندوستان نامی دہشت گرد گروپ نے یہ کارروائی کی، جو بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے وابستہ عناصر کے زیر اثر ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ٹویٹر اکاونٹس نے واقعے سے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی، بلکہ یہ پیغام دیا گیا کہ بلوچستان کے لوگ پتھروں سے مزاحمت کریں گے، اور پھر حملہ عمل میں آیا—جو ایک واضح خارجی حمایت اور دشمنی کا مظہر ہے ۔

وسیم عباسی نے مزید کہا کہ بھارت براہ راست فوج سے لڑائی کا سامنا نہیں کر سکتا، اس لیے عام شہریوں کو دہشت گردی کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

ریاست کا رد عمل اور اقدامات
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اس “وحشیانہ قتلِ عام” کی شدید مذمت کی اور اسے BLA (Baloch Liberation Army) کی ذمہ داری قرار دیا، جس کا مقصد پاکستان میں انتشار اور عدم استحکام پھیلانا ہے

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے واقعے کو “ناقابلِ معافی جرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست دہشتگردوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لائے گی ۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی ذمہ داروں کی گرفتاری اور کی گئی کارروائیوں کا اعلان کیا، کہا: “یہ بزدلانہ دہشت گردی ہے اور کوئی معافی نہیں ہوگی”

بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی تاریخ
گزشتہ اپریل 2024 میں نوشکی واقعہ میں بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو اسی انداز میں اغوا اور قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد BL A نے ذمہ داری قبول کی ۔

بلوچ علیحدگی پسند گروپس جیسے BLA, BLF اور BRAS نے بلوچستان میں سیاسی، عسکری و اقتصادی اہداف پر متعدد حملے کیے، جن میں شہریوں اور CPEC منصوبوں کو ٹارگٹ کیا گیا

۔اس وحشتناک واقعے سے سبق: قوم کو متحد ہونا ہوگا
یہ واقعہ ہمیں کئی اہم پیغامات دیتا ہے

نسلی بنیاد پر دہشت گردی نہ صرف انسانیت کے خلاف ہے بلکہ ملکی اتحاد کو کمزور کرتی ہے۔

اگر دشمن پہلے سے منصوبہ بندی میں ملوث ہے اور حملے کی پیشگی پیشن گوئی ہوئی، تو یہ خفیہ سازشوں اور خارجی مداخلت کا ثبوت بنتا ہے۔

ریاست کو موثر اور فوری ردعمل کے ساتھ شہریوں کے تحفظ کے لیے مشنری طرزِ حکمرانی اپنانی ہوگی۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک

سٹی 42: بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک  ہوئے ۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے مستونگ، نوشکی، ژوب، خضدار اور کیچ میں آپریشنز کیے گئے ۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 17 دہشتگرد مارے گئے،

ہلاک دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا، دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔ہلاک دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے،دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی تعداد میں دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ تیار شدہ آئی ای ڈیز بھی دہشتگردوں سے برآمد کر لی گئیں۔علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری کییے ۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 آئی ایس پی آر کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی،ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ