حافظ نعیم کی بلوچستان واقعے کی مذمت, حکمران عوام کے تحفظ میں ناکام ہوگئے‘ امیر جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور( نمائندہ جسارت )امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بلوچستان میں مسلح افراد کی جانب سے بس مسافروں کے قتل کے اندوہناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین دہشت گردی قرار دیا ہے۔ منصورہ سے جاری بیان میں امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ حکومت دہشت گردی واقعے میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر کے انھیں کیفرکردار تک پہنچائے۔انھوں نے شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچستان کے اضلاع ژوب اور لورالائی کے درمیان قومی شاہراہ پر مسافربسوں پر سوار 9 نہتے افراد کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ ژوب دہشت گردی واقعہ صوبائی و نسلی تعصبات پھیلانے کی گھناؤنی سازشوں کی کڑی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اور سیکورٹی ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مسلسل ناکام ہورہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خفیہ ادارے دیگر مشاغل چھوڑ کر اپنی اصل ذمے داری ادا کریں تو بھی دہشت گردی پر خاصی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔وفاقی و صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی
پڑھیں:
کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
بگوٹا(نیوز ڈیسک) کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا جس کے نتیجے میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک طیارہ ٹیک آف کے دوران اچانک گر کر تباہ ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ اڑان بھرنے کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوا، جس کے باعث اس میں سوار تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
کولمبیا کے فضائی حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ سیسنا 206 تھا۔
حکام کے مطابق طیارہ وسطی کولمبیا کے علاقے میٹا کے دارالحکومت ویلاویسینسیو سے لا ماکارینا کی جانب اڑان بھر رہا تھا تاہم ٹیک آف کے دوران نامعلوم وجوہات کی بنا پر کنٹرول کھو بیٹھا اور زمین پر جا گرا۔
حادثے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے ہنگامی پروٹوکول نافذ کر دیے اور تحقیقاتی ٹیم کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا، ٹیم طیارے کے ملبے، تکنیکی شواہد، موسم کی صورتحال اور دیگر اہم پہلوؤں کا جائزہ لے گی تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
فضائی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ حادثے سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے جبکہ طیارے کی تکنیکی حالت اور پرواز سے قبل کی تیاریوں کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کسی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا تاہم تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔
مقامی انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ