اسلام آباد، جیل کی سیکیورٹی کے انتظامات کیلئے نفری ڈیپوٹیشن پر لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد، جیل کی سیکیورٹی کے انتظامات کیلئے نفری ڈیپوٹیشن پر لینے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی دارالحکومت میں جیل کی سیکیورٹی اور انتظامات کے حوالے سے وفاقی پولیس سے نفری ڈیپوٹیشن پر لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد جیل کے لیے 8انسپکٹروں سمیت 295 افراد کی نفری ڈیپوٹیشن پر لگائی جائے گی اور جیل ڈیوٹی کے لیے افسران اور اہلکار 3سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر آئیں گے۔اسلام آباد جیل کے لیے 8 انسپکثر، 5 اے ایس آئی، 25 ہیڈکانسٹیبلز اور250 کانسٹیبلز مانگے گئے ہیں اور سیکیورٹی آپریشنز اور لاجسٹکس ڈویژن کو نفری فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
افسران کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے لیے مخصوص شرائط لاگو ہوں گے، نامزد اہلکاروں کی عمر 50 سال سے کم ہونا لازمی قرار دی گئی ہے اور محکمانہ سزا یافتہ اہلکار تعیناتی کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ کم از کم 3 سال سروس مکمل کرنے والے اہلکار شامل کیے جائیں گے اور تمام ڈویژنز کو 5 دن میں مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اسلام آباد ماڈل جیل میں پولیس افسران اور اہلکاروں کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے لیے حتمی منظوری اعلی حکام دیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے سے روکنے پر وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان سامنے آگیا عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے سے روکنے پر وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان سامنے آگیا فرانس کے بعد برطانیہ نے بھی ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیدیا معروف امریکی سیاستدان محمد عارف کی نیویارک میں مسلح شخص کی فائرنگ سے مسلمان پولیس افسر سمیت 5 افراد کے قتل کی شدید مذمت یکم اگست سے پیٹرول اور ڈیزل سستا، لائٹ ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی راولپنڈی کا اجلاس، چینی بحران نمٹنے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر اہم فیصلے سدرہ قتل کیس، گورکن اور سیکرٹری قبرستان کمیٹی کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نفری ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔