اسلام آباد(صغیر چوہدری )وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس 9 سال بعد بھی حل نہ ہوسکا۔ علی امین گنڈہ پور کی فرمائش پر وڈیو لنک کے ذریعے بھی بیان قلمبند نا ہوسکا ۔ مقامی عدالت نے علی امین گنڈہ پر کے وارنٹ گرفتاری بحال رکھتے ہوئے دوبارہ طلب کرلیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے سماعت کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ علی امین گنڈہ سرکاری امور کی انجام دہی کے سلسلے میں مصروفیت کے باعث حاضر نہیں ہوسکتے ۔ انکا زیر دفعہ 342 کا بیان وڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے ۔ لیکن انٹرنیٹ میں خرابی کے باعث وزیر اعلی کا بیان قلمبند نا ہوسکا حس پر عدالت نے علی امین گنڈہ پور کے وارنٹ گرفتاری بحال رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔ عدالتی آرڈر کے مطابق کیس آج سماعت کے لیے مقرر تھا، علی امین گنڈاپور کا 342 بیان ریکارڈ کرنا تھا علی امین گنڈاپور کو عدالت حاضری کےلیےشوکاز نوٹس جاری کیاگیاتھا لیکن وکیل صفائی نےکہا علی امین گنڈاپور سرکاری کام کے باعث مصروف ہیں خیبرپختونخوا میں بارش کے باعث وزیراعلی کی مصروفیات بتائی گئیں،علی امین گنڈاپور کا زیر دفعہ 342 کا بیان ویڈیو لنک کے زریعے ریکارڈ کروانے کے لیے تیار ہیں،3 بجے کیس کی سماعت جب دوبارہ شروع ہوئی تو وکیل صفائی عدالت میں پیش ہوئےوکیل صفائی نے ملزم کے نمبر اور زوم لنک عدالت کو مہیہ کیا،عدالتی اسٹاف نے کوشش کی لیکن انٹرنیٹ کنکشن نہیں بن پایا۔عدالت نے اپنے آرڈر میں مزید کہا کہ وکیل صفائی کی جانب سے آن لائن بیان قلمبند کروانے کے بیان سے معلوم ہوتا ہے علی امین گنڈاپور بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں جبکہ وکیل صفائی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ آیندہ سماعت پر علی امین گنڈاپور 342 کا بیان قلمبند کروائیں گے،علی امین گنڈاپور کو 342 کا بیان قلمبند کروانے کے لیے ایک اور موقع فراہم کیاجاتاہے عدالتی آرڈر میں انہیں سہولت دی گئی ہے کہ علی امین گنڈاپور اپنا بیان وڈیولنک یا ذاتی حثیت میں پیش،ہوکر بیان ریکارڈ کروا سکتے ہیں،تاہم عدالتی حکم نامے کے مطابق علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے گئے ہیں،یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور شوکاز نوٹس کا جواب جمع کروائیں،واضح رہے کہ اکتوبر 2016 میں علی امین گنڈہ پور کی گاڑی سے ولایتی شراب کی بوتل۔ 5 کلاشنکوف۔گولیاں ۔3 بلٹ پروف جیکٹس اور آنسو گیس کے شیل برآمد ہوئے تھے تاہم علی امین گنڈہ پور گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے اور بعد میں انکی طرف سے موقف سامنے آیا تھا کہ اسلحہ لائسنس یافتہ تھا جبکہ بوتل میں شراب نہیں بلکہ دیسی شہد تھا اس،وقت علی امین گنڈہ پور صوبائی ریونیو تھے بعد میں پولیس نے تمام اشیا قبضے میں لے کر مقدمہ درج کیا تھا ۔عدالت نے علی امین گنڈاپور کے خلاف کیس کی سماعت 24 جولائی تک ملتوی کردی ہے اور عدالت نے اپنے واضح کیا ہے کہ اگر وہ پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروا لیں تو زیادہ اچھا ہے اور عدالت نے یہ بھی کہا کہ علی امین گنڈاپور تو وزیراعلی ہیں، انکے لیے پیش ہونا کیا مسلہ ہوسکتاہے ۔عدالت نے علی امین کو 9 سوالوں کے جواب دینے کا بھی حکم دے رکھا ہے

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور کے عدالت نے علی امین وکیل صفائی نے کہ علی امین کے باعث پور کے کے لیے

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی