پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان  نےسینیٹ نتائج پر کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو مبارک، جس نے پی ڈی ایم کو سپورٹ کرتے ہوئے پیپلزپارٹی ،(ن) لیگ اور جے یو آئی کا سینیٹر بنوا دیئے۔

خیبرپختونخوااسمبلی سے سینیٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد ایمل ولی خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ علی امین کو مبارک ہو،اس نے پیپلزپارٹی کا سینیٹر بھی بنوا دیا۔

علی امین کو مبارک ہو،اس نے (ن )لیگ کا سینیٹر بھی بنوا دیا۔

علی امین کو مبارک ہو،اس نے جے یو آئی کا سینیٹر بھی بنوا دیا۔

بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کا ضیاع، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی قیادت کا اظہارِ افسوس

الحمدللہ علی امین پی ڈی ایم کو پوری طرح سپورٹ کر گیا۔

مراد سعید کے حوالے سے ایمل ولی خان کاکہناتھا کہ ظاہری بات  ہے چار پانچ تو اپنے لوگ لانے تھے نہیں تو وہ بھی ان کو دے دیتے،تو جو ہلکے پھلکے لے آئے ہیں،دیکھیں مراد سعید کا آنا نہ آنا ہے،یہ کرسی خالی رہے گی۔

ان کاکہناتھا کہ ادھر لوگ چیختے تھے پختونخواکی نمائندگی، نمائندگی، نمائندگی،اب مرضی سے وہ نمائندگی کو باہر کردیا،مجھے طعنہ دیتے تھے میں الحمدللہ ایک پختون علاقے کا نمائندہ ہوں اور میں بار بار کہتا ہوں کہ بلوچستان کے 11اضلاع پختونوں کے ہیں ادھر کا نمائندہ پختونوں کا نمائندہ ،مجھے طعنے دیئے، گالیاں دیں۔

بلوچستان میں غیرت کے نام پر خاتون کے قتل پر مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی

آج پنجاب کے ایک بندے کو لاکے پختونوں کا نمائندہ بنا دیا۔

اہم ترین الرٹ ????
علی امین کو مبارک ہو !!
علی امین نے پیپلز پارٹی کا سینیٹر بھی بنا دیا جمعیت کا بھی بنا دیا مسلم لیگ کا بھی بنا دیا
الحمد للہ علی امین پی ڈی ایم کو پوری طرح سپورٹ کررہا ہے!!
مجھے طعنے دئے گالیاں دیں خود پنجاب سے بندہ لا کر پختونوں کا نمائندہ بنا دیا
ایمل ولی خان pic.

twitter.com/weVIJFmmRD

— Mohammad Shehzad Khan (@MShehzadSpeaks) July 21, 2025

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کا سینیٹر بھی بنوا دیا علی امین کو مبارک ہو ایمل ولی خان پی ڈی ایم کو کا نمائندہ بنا دیا

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین