چند ماہ کے مہمان علی امین گنڈاپور خود فارم 47 کے وزیراعلیٰ ہیں، ترجمان جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
پشاور:
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور خود فارم 47 کے وزیر اعلیٰ ہیں جو چند مہینوں کے مہمان ہیں۔
ترجمان جے یو آئی (ف) نے کہا کہ وزیر اعلیٰ باجوڑ جانے کے بجائے لاہور میں سیر سپاٹا کر رہے جو انتہائی شرمناک ہے، وزیر اعلیٰ اپنے سابق وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کے اعتراف کے مطابق جعلی مینڈیٹ پر براجمان ہیں۔
صوبائی حکومت سر تا پاؤں کرپشن میں ڈوبی ہے، صوبائی خزانہ سے لاہور کا ٹور کرنے والوں سے پائی پائی کا حساب لیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کے حقیقت پر مبنی بیان نے وزیر اعلیٰ کی ڈرامہ بازی پر پانی پھیر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر اعلی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔