پی ٹی آئی متحد ہے، پارٹی میں اختلافات کا بیانیہ فیصلہ سازوں کی سازش ہے،سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
پی ٹی آئی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میں اختلافات کا بیانیہ فیصلہ سازوں کی سازش ہے، یہ ملک اشرافیہ کا ملک ہے، تمام پارٹی کا آکٹھے ہوکر لاہور آنا یہ ثبوت ہے کہ ہم بانی کی رہائی کیلئے متحد ہیں۔
لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بانی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ریاست عدلیہ اور قوم کی رہائی ہے، تحریک انصاف میں اختلافات کا بیانیہ فیصلہ سازوں کی سازش ہے، یہ ملک اشرافیہ کا ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی ٹی آئی کی سربراہی میں ہم ملک کی تاریخ کو بدلیں گے، 8 فروری ہم کسی کو بھولنے نہیں دیں گے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ تحریک انصاف نے صحت کارڈ متعارف کروایا تھا، پاکستان کے غریب عوام کا دل بانی پی ٹی آئی کے ساتھ دھڑکتا ہے، بانی تحریک انصاف کی رہائی کیلئے پوری قوم، پوری پارٹی متحد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام پارٹی کا آکٹھے ہوکر لاہور آنا یہ ثبوت ہے کہ ہم بانی کی رہائی کیلئے متحد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں ٹن چینی باہر بھیج کر زیادہ قیمت پر واپس منگوائی جارہی ہے، ہماری تحریک ہر گھر سے نکلیں گی، ہمارا قوم سے وعدہ ہے کہ ہم نے اب پیچھے نہیں ہٹنا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف کی رہائی نے کہا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔