بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون سے   یومیہ  پریس کانفرنس میں ایک سوال پوچھا گیا کہ   چونکہ لائی چھنگ ڈے کے دورہ لاطینی امریکہ کے لئے  امریکہ نے نیویارک سے “ٹرانزٹ” کرنے کے منصوبےکو  مسترد کر دیا ہے، اس لئے لائی چھنگ ڈے  نے لاطینی امریکہ میں تائیوان کے ساتھ نام نہاد “سفارتی تعلقات والے ممالک” کے دورے کا  اپنا منصوبہ ملتوی کر دیا ہے۔ اس حوالے سے وزارت خارجہ کا کیا تبصرہ ہے؟ ترجمان نے کہا کہ وہ  ایک بار پھر اس بات پر زور دینا چاہتے ہیں  کہ ایک چین کا اصول بین الاقوامی تعلقات کا ایک بنیادی اصول ہے  اور بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق رائے  بھی ہے ۔ ایک چین کے اصول کو برقرار رکھنا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقیقت اور  عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ لائی چھنگ ڈے  انتظامیہ  کا ” علیحدگی ” کا اشتعال انگیز اقدام کبھی کامیاب نہیں ہوگا، اور نہ ہی یہ ایک چین کے اصول پر عمل پیرا بین الاقوامی برادری کے مضبوط  ڈھانچے  کو ہلا سکتا ہے، اور یہ چین کے حتمی  وحدت کے تاریخی رجحان کو بھی نہیں روک سکے گا۔ ترجمان نے مزید کہا  کہ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ تائیوان کے ساتھ  نام نہاد “سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک” صورتحال کو واضح طور پر سمجھیں گے اور جلد از جلد درست فیصلے کریں گے جو تاریخی رجحان اور اپنے لوگوں کے طویل مدتی مفادات کے مطابق ہوں۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بین الاقوامی

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری

گلگت:

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟