عمران خان کو جیل سے باہر لانے کیلئے فی الحال امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں ، یہ ایک واحد راستہ ہے: قاسم خان
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں جیل سے باہر لانے کیلئے فی الحال اس وقت امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہاں پر بہت سارے لوگوں نے تحفظات ظاہر کیئے ہیں ،ایسا لگتا ہے کہ یہ عمران خان کو باہر نکالنے کا واحد ایک راستہ ہے ۔
تفصیلات کے مطابق قاسم خان کا کہناتھا کہ وہاں کی اسٹبلشمنٹ اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو جواب نہیں دے رہی ہیں ۔قاسم خان کا کہناتھا کہ انہیں 2 سال سے قید تنہائی میں رکھا گیاہے ، انہیں جس سیل میں رکھا گیاہے وہ بہت ہی بری حالت میں ہے ، وہ مٹی والے پانی سے نہا رہے ہیں، اسی دوران قید میں موجود 10 لوگوں کی خوفناک بیماریوں کی وجہ سے موت ہوئی ہے ، اس وقت ان کی حالت کافی خراب ہے اور یہ دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے ، ہم ان کو باہر نکالنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
درخواستگزار کے شوہر نے خود کیوں درخواست دائر نہیں کی،سب سے بڑی ہراسمنٹ یہ ہے مرد خود پیچھے ہو کر خواتین کو آگے کر دیتے ہیں،چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ریمارکس
قاسم خان کا کہناتھا کہ ان کے خلاف اس وقت 200 سے زائد مقدمات درج ہیں، جب بھی ان پر ایک کیس ختم ہو تاہے تو مزید چار سے پانچ کیسز بنا دیئے جاتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ ان کے باہر آنے کا امکان کم ہے ، ہم ان سے بات نہیں کرپا رہے ، عمران خان کے سیل میں 10 روز تک بجلی نہیں دی گئی جو کہ ایک طرح کا ٹارچر ہے ، جب ہم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں دن میں صرف دو گھنٹے کیلئے بجلی دینا شروع کی گئی ، ہماری ان سے بات ہوئے 4 مہینے ہو گئے ہیں ۔
"We are looking to America at the moment.
pic.twitter.com/NKOAY3y8al — Waseem Abbasi (@Wabbasi007) July 30, 2025
حسن ابدال میں گاڑی برساتی نالے میں گر گئی ،5افراد کو زندہ نکال لیاگیا، 5لاپتہ
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔