دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے، قبضہ ختم کرنے کا وقت آ گیا، یو این سیکرٹری جنرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
نیویارک:
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع کو خطرناک حد کو چھوتا ہوا بحران" قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
وہ اقوام متحدہ میں منعقدہ دو ریاستی حل اور فلسطین کے پرامن حل سے متعلق اعلیٰ سطحی عالمی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے نام پر دہائیوں سے صرف عملدرآمد کی بجائے عمل کا بہانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق بیانات، تقاریر اور قراردادوں کا ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں رہا جو برسوں سے تباہی، قبضے اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے زور دیا کہ اس تنازع کا واحد منصفانہ اور دیرپا حل یہی ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کو دو آزاد، جمہوری ریاستوں کی شکل میں 1967 کی سرحدوں کے مطابق قائم کیا جائے، جہاں یروشلم دونوں کے لیے دارالحکومت ہو، اور یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ممکن ہو۔
انہوں نے ان عناصر کو تنقید کا نشانہ بنایا جو اس حل کی مخالفت کرتے ہیں اور کہا کہ متبادل کیا ہے؟ ایک ایسی ریاست جہاں فلسطینیوں کو برابر حقوق سے محروم رکھا جائے؟ جہاں وہ مسلسل قبضے اور عدم مساوات کے تحت زندگی گزاریں؟ جہاں انہیں ان کی زمین سے بے دخل کر دیا جائے؟ یہ امن نہیں، یہ انصاف نہیں، اور یہ ہرگز قابل قبول نہیں۔
کانفرنس کی ابتدائی نشست سے خطاب میں گوتریس نے کہا کہ یہ تنازع نسل در نسل جاری رہا ہے، اور بین الاقوامی قانون، قراردادوں اور سفارتی کوششوں کو مسلسل چیلنج کرتا رہا ہے۔ لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ ناقابلِ حل نہیں، اگر سیاسی قیادت اور جرات مند فیصلے سامنے آئیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ محض خیرسگالی کے بیانات سے آگے بڑھیں اور اس کانفرنس کو ایک فیصلہ کن موڑ بنائیں، تاکہ قبضے کا خاتمہ ممکن ہو اور دو ریاستی حل کی جانب ٹھوس پیش رفت کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔