سلامتی کونسل مباحثہ: بھارت دہشت گردی کی منظم سرپرستی کر رہا ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
سلامتی کونسل مباحثہ: بھارت دہشت گردی کی منظم سرپرستی کر رہا ہے، پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 23 July, 2025 سب نیوز
نیویارک(آئی پی ایس) سلامتی کونسل میں کھلے مباحثے کے دوران پاکستانی سفیر عثمان جدون نے بھارت کا چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی منظم سرپرستی اور معاونت کر رہا ہے۔
مباحثے کے دوران بھارتی مندوب کے ریمارکس پر پاکستان کے سفیر عثمان جدون نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی نمائندے نے آج اس اہم فورم کا غلط استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزامات لگائے اور سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جبکہ بھارتی نمائندے کے بیان کے برعکس حقائق بالکل واضح اور ناقابلِ تردید ہیں۔
پاکستانی سفیر عثمان جدون نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر کے متنازع علاقے پر غیرقانونی قابض ہے، بھارت نے جموں وکشمیر کے تنازع پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کی اور کشمیری عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سے محروم رکھا ہے، بھارت خود تنازع کشمیر سلامتی کونسل میں لایا، اب اسی کی قراردادوں پر عملدرآمد سے انکاری ہے۔
عثمان جدون نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی منظم سرپرستی اور معاونت کرتا ہے جبکہ بھارت میں اقلیتوں سے بدترین سلوک بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں درج ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یکطرفہ اور غیرقانونی طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی ناپاک کوشش کی، بھارت کا مقصد پاکستان کے عوام کو دریائے سندھ کے پانی سے محروم کرنا ہے، بھارتی عمل بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر عثمان جدون نے کہا کہ بھارت نے 7 سے 10 مئی کے درمیان پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کی، پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کے تحت ذمہ دارانہ اور مؤثر جواب دیا، بھارت کے 6 جنگی طیارے تباہ کیے اور دیگر نمایاں عسکری نقصانات بھی پہنچائے۔
عثمان جدون نے کہا کہ بھارت کو غرور زدہ سوچ اوربےلگام رویے سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا، بھارت کو خود احتسابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا رویہ بدلنا چاہئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحماد اظہر روپوشی ختم کرکے اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے پہنچ گئ حماد اظہر روپوشی ختم کرکے اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے پہنچ گئ بابوسر سیلابی ریلے میں بہنے والے 15 افراد تاحال لاپتا، سیاحوں سے گلگت کا سفر مؤخر کرنے کی اپیل کیا9مئی کیس میں بری شاہ محمود پی ٹی آئی کی قیادت سنبھال سکتے ہیں؟ اسلام آباد کی نجی سوسائٹی کے برساتی نالے میں بہہ جانے والے باپ بیٹی کی تلاش جاری اسرائیلی فوج نے غزہ میں امداد لینے والے 1000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا، اقوامِ متحدہ کا انکشاف ملک ظہیر نواز کی بیٹی کا نکاح، غلام سرور خان، راجہ بشارت سمیت متعدد رہنماؤں کی شرکتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی منظم سرپرستی سلامتی کونسل
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔