سلامتی کونسل میں پاکستان کی " تنازعات کے پُرامن حل " سے متعلق قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق سلامتی کونسل میں " تنازعات کے پُرامن حل " سے متعلق پاکستان کی قرارداد میں ثالثی، سفارتی کوششوں کے فروغ کی اپیل کی گئی، علاقائی و عالمی سطح پر تعاون بڑھانے کی بھی تجویز دی گئی، قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ سلامتی کونسل میں " تنازعات کے پُرامن حل " سے متعلق پاکستان کی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قرارداد نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی صدارت میں منظور ہوئی، قرارداد میں رکن ممالک پر پُرامن ذرائع سے تنازعات کے حل پر زور دیا گیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق قرارداد میں ثالثی، سفارتی کوششوں کے فروغ کی اپیل کی گئی، علاقائی و عالمی سطح پر تعاون بڑھانے کی بھی تجویز دی گئی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کا عالمی امن و سلامتی کے لیے کلیدی کردار رہا، پاکستان کی قرارداد، تنازعات کے روک تھام کی جانب اہم قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ کے پاکستان کی تنازعات کے کے مطابق
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔