عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی قرارداد سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سلامتی کونسل نے عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد پاکستان مسئلہ کشمیر کو کس طرح سے اُجاگر کر سکتا ہے؟
پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد ’تنازعات کے پرامن حل کے لیے طریقہ کار کو مضبوط بنانا‘ کے عنوان سے تھی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ یہ قرارداد عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے فعال کردار کی ایک نمایاں مثال ہے۔
یہ قرارداد اس اجلاس میں منظور کی گئی جس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی۔ قرارداد کا مقصد اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ششم کے تحت تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے تاکہ دنیا بھر میں سفارتی کوششوں، ثالثی، اعتماد سازی، اور بین الاقوامی و علاقائی سطح پر مکالمے کو فروغ دے کر تنازعات کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
مزید پڑھیے: اسرائیلی حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ، سلامتی کونسل میں پاکستان کا انتباہ
قرارداد نمبر 2788 (2025) رکن ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے پرامن ذرائع استعمال کریں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
علاوہ ازیں یہ قرارداد تمام علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ پرامن حل کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کریں اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔
مزید پڑھیں: فلسطین کے حق میں پاکستان کی مؤثر آواز، سلامتی کونسل کے کردار پر سوال اٹھا دیا؟
پاکستان نے بطور سلامتی کونسل کے فعال رکن اس قرارداد کی منظوری کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے جس سے علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل پاکستان کی قرارداد منظور سیکیورٹی کونسل میں پاکستان کی قرارداد منظور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل پاکستان کی قرارداد منظور سیکیورٹی کونسل میں پاکستان کی قرارداد منظور تنازعات کے پرامن حل کے پرامن حل کے لیے سلامتی کونسل میں پاکستان اقوام متحدہ پاکستان کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔