اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سلامتی کونسل نے عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد پاکستان مسئلہ کشمیر کو کس طرح سے اُجاگر کر سکتا ہے؟

پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد ’تنازعات کے پرامن حل کے لیے طریقہ کار کو مضبوط بنانا‘ کے عنوان سے تھی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ یہ قرارداد عالمی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے فعال کردار کی ایک نمایاں مثال ہے۔

یہ قرارداد اس اجلاس میں منظور کی گئی جس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی۔ قرارداد کا مقصد اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ششم کے تحت تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے تاکہ دنیا بھر میں سفارتی کوششوں، ثالثی، اعتماد سازی، اور بین الاقوامی و علاقائی سطح پر مکالمے کو فروغ دے کر تنازعات کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

مزید پڑھیے: اسرائیلی حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ، سلامتی کونسل میں پاکستان کا انتباہ

قرارداد نمبر 2788 (2025) رکن ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے پرامن ذرائع استعمال کریں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

علاوہ ازیں یہ قرارداد تمام علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ پرامن حل کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کریں اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔

مزید پڑھیں: فلسطین کے حق میں پاکستان کی مؤثر آواز، سلامتی کونسل کے کردار پر سوال اٹھا دیا؟

پاکستان نے بطور سلامتی کونسل کے فعال رکن اس قرارداد کی منظوری کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے جس سے علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل پاکستان کی قرارداد منظور سیکیورٹی کونسل میں پاکستان کی قرارداد منظور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل پاکستان کی قرارداد منظور سیکیورٹی کونسل میں پاکستان کی قرارداد منظور تنازعات کے پرامن حل کے پرامن حل کے لیے سلامتی کونسل میں پاکستان اقوام متحدہ پاکستان کی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی