ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے چار لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے کی ممکنہ دھمکی کے بعد منگلا ڈیم انتظامیہ اور ضلعی حکام نے ہنگامی اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے ایمرجنسی نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جبکہ مساجد کے ذریعے عوام کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے اعلانات بھی کروائے جا رہے ہیں۔

 حکام کے مطابق متعلقہ محکمے الرٹ ہیں اور ریسکیو ادارے، مقامی انتظامیہ اور واپڈا حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیم کے اطراف کے نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے کابطور اسسٹنٹ پروفیسر تعیناتی منسوخی کیخلاف احتجاج کا اعلان 

 ڈپٹی کمشنر کے مطابق اگر بھارت کی جانب سے پانی چھوڑا جاتا ہے تو منگلا کے آس پاس کے علاقے شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

 حالیہ بارشوں اور گلیشئیرز کے پگھلنے کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

اسرائیل نے حضرت ابراہیم کے مقبرے اور مسجدِ ابراہیمی کا کنٹرول سنبھال لیا

 پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جہاں پانی کی آمد 3 لاکھ 40 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 20 ہزار کیوسک ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ کالا باغ پر پانی کی آمد 3 لاکھ 32 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 24 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ پر آمد 3 لاکھ 63 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 57 ہزار کیوسک ہے۔

پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ کیلئے عالمی مالیاتی نظام میں گہری اصلاحات ناگزیر ہیں؛ اسحاق ڈار

 چشمہ کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 40 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 20 ہزار کیوسک، جبکہ تربیلا میں بہاؤ 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی، جہلم اور ستلج میں پانی کا بہاؤ اس وقت نارمل سطح پر ہے، جبکہ دریائے چناب کے مرالہ، قادر آباد اور تریموں کے مقامات پر بھی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

 پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 22 سے 24 جولائی کے دوران پنجاب کے بڑے دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فی الوقت پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔

معروف نابینا شاعر ڈاکٹر تیمور حسن تیمور انتقال کرگئے 

 ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر الرٹ رہنے اور پیشگی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اور اخراج 3 لاکھ پی ڈی ایم اے ہزار کیوسک آمد 3 لاکھ

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا