وزیراعلیٰ سندھ نے ”معرکہ حق“ کی تھیم کے ساتھ جشنِ آزادی کے سلسلے میں پروگرامز کی تفصیلات بتادیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ”معرکہ حق“ میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے، اسی لیے اس سال جشنِ آزادی کا تھیم ”معرکہ حق“ ہوگا اور تقریبات بھرپور انداز میں منائی جائیں گی, وفاقی حکومت اور صوبے مل کر 14 دن سلیربیٹ کریں گے۔
کراچی میں سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن اور ناصر حسین شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، اس بار 14 اگست صرف ایک دن تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ یکم سے 14 اگست تک مختلف تقریبات کا انعقاد ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال 14 اگست مناتے ہیں، لیکن اس بار وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جشنِ آزادی صرف ایک دن تک محدود نہ ہو، یکم سے 14 اگست تک مختلف تقریبات منعقد کی جائیں گی تاکہ مئی میں حاصل ہونے والی ”معرکہ حق“ کی کامیابی کو بھی بھرپور انداز میں منایا جائے اور قوم کو آزادی کی اہمیت کا عملی احساس دلایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں نے مل کر چودہ دن سلیربیٹ کر لے گا، جو نہیں کرے گا اس کو لوگ پہچان لیں گے، شر پسند عناصر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن پولیس رینجرز اور پاک فوج تیار ہے
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے کبھی ہار نہیں مانی، دہشت گردی کے ڈر سے کوئی پروگرام کینسل نہیں کریں گے، میڈیا سے گذارش ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں جو گھر۔گاڑی۔ مال۔ عمارت اور سرکاری عمارت سجاتا ہے وہ ان کی نشاندہی کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہمیشہ لیڈ کرتا ہے اور کرتا رہے گا، کابینہ میں جب تبدیلی کرنا ہو گی وہ میں کر دوں گا سب کو پتہ چل جائے گا۔
https://www.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔