’’ڈرو اُس دن سے جب اوپر والے کی پکڑ ہوگی‘‘بینک کے قرض کیس میں عدالت کے ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ’’ڈرو اُس دن سے جب اوپر والے کی پکڑ ہوگی‘‘۔
نجی بینک سے قرضہ حاصل کرکے مورگیج گھر کو دوسرے فریق کو فروخت کرنے سے متعلق درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے فریقین سے دلائل طلب کرلیے۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو نجی بینک سے قرضہ حاصل کرکے مورگیج گھر دوسرے فریق کو فروخت کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کے وکیل نے کوقف دیا کہ ہم بینک سے سیٹلمنٹ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جسٹس محمد اقبل کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ درخواستگزار کو خدا کو خوف نہیں ہے؟ جس گھر پر بینک سے قرضہ حاصل کیا وہ کسی کو بیچ دیا۔ یہاں تو جوڑ توڑ کر لو گے اوپر ایک اور بھی عدالت ہے وہاں کیسے کرو گے؟ ڈرو اس دن سے جس دن اوپر والے کی پکڑ ہوگی۔
نجی بینک کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار نے ایف بی ایریا کے گھر پر 2019ء میں بینک سے 2 کروڑ روپے قرضہ لیا۔ بینک نے درخواستگزار سید کاظم رضا کا گھر مورگیج رکھا تھا۔ درخواستگزار نے مورگیج گھر کسی پرائیویٹ شخص کو بیچ دیا اور بینک کو پیسہ بھی ادا نہیں کیا۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ عدالت حکم دے تو جو بھی رقم بنتی ہے ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پہلے گھر بیچ دیا اب یہ بھی عدالت آپ کو حکم دے؟ جو کرنا ہے بینک کے ساتھ کریں، عدالت میں کیوں درخواست دائر کردی؟
بعد ازاں عدالت نے 29 اکتوبر کو فریقین سے دلائل طلب کرلیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز