نیویارک: صدر ڈونلڈ ٹرمپ پرامریکی عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں عائد کیے گئے 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر جرمانہ برقرار رکھا ہے، امریکی صدر کیخلاف مقدمہ مصنفہ ای جیل کول نے کیا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے اےایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی ایک اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مصنفہ ای۔ جین کیرول کو بدنام کرنے پر جیوری کی جانب سے عائد کیے گئے 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر کے جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے 1990 کے وسط میں برگڈورف گڈمین ڈیپارٹمنٹ اسٹور ڈریسنگ میں صحافی جین کیرول کے ساتھ ریپ کرنے کے الزام کو مسترد کرنے پر ایلے میگزین کی سابقہ کالم نگار ( جین کیرول) نے نومبر 2019 میں ان پر مقدمہ دائر کیا تھا۔

صحافی نے بیان دیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے الزامات مسترد کرنے کی وجہ سے ان کی بطور صحافی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔

دوسری جانب 77 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مؤقف اپنایا کہ انہوں نے کبھی صحافی کا نام تک نہیں سنا اور الزام لگایا کہ جین کیرول نے اپنی یادداشت کی فروخت کو بڑھانے کے لیے یہ کہانی بنائی ہے۔جنوری 2024 میں مین ہیٹن کی عدالت نے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مصنفہ ای جین کیرول کو 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔جنوری 2024 کے فیصلے میں 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ بطور تعزیری شامل تھا کیونکہ جیوری نے قرار دیا کہ ٹرمپ نے کیرول کے بارے میں بار بار دیے گئے بیانات میں بدنیتی سے کام لیا تھا۔

اس کے علاوہ 73 لاکھ ڈالر بطور ازالۂ نقصان اور 1 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کیرول کی شہرت بحال کرنے کے لیے آن لائن مہم پر خرچ کرنے کے لیے دیے گئے تھے۔یہ سول حکم، جس نے وفاقی عدالت میں موجود افراد کو حیران کر دیا، بدنامی کے معاوضے کے طور پر کیرول کی جانب سے مانگے گئے 1 کروڑ ڈالر سے کہیں زیادہ تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ، جنہیں نیویارک میں ایک علیحدہ وفاقی سول مقدمے میں کیرول کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا، نے اس وقت اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کیرول، مقدمے اور جج پر حملہ کرتے ہوئے توہین آمیز پیغامات کی بوچھاڑ کر دی تھی اور جج کو ’ انتہائی ظالم شخص’ قرار دیا تھا۔

امریکی اپیل کورٹ برائے سیکنڈ سرکٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ’ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ کورٹ نے کسی بھی چیلنج شدہ فیصلے میں غلطی نہیں کی، اور جیوری کی جانب سے دیے گئے نقصانات کے ازالے کے احکامات اس کیس کے غیر معمولی اور سنگین حالات کے تناظر میں معقول تھے۔81 سالہ کیرول نے الزام لگایا تھا کہ ٹرمپ نے 2019 میں، جب وہ پہلی بار ان کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات عوامی سطح پر لائیں تو ٹرمپ نے انہیں بدنام کیا تھا یہ کہہ کر کہ وہ ’ میری ٹائپ کی نہیں ہیں۔’

جیوری کو ٹرمپ کا اکتوبر 2022 کا بیان بھی دکھایا گیا جس میں انہوں نے کیرول کی تصویر کو اپنی سابقہ اہلیہ مارلا میپلز سے غلطی سے ملا دیا تھا، جس سے ان کے اس دعوے پر سوال اٹھا کہ کیرول ان کی ’ ٹائپ کی نہیں تھیں۔2023 میں ایک اور وفاقی جیوری نے ٹرمپ کو 1996 میں ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں کیرول کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب پایا اور پھر 2022 میں انہیں ( کیرول کو) بدنام کرنے کا بھی ذمہ دار قرار دیا، جب ٹرمپ نے کیرول کو ’ مکمل فراڈ’ کہا تھا۔

اپیل کورٹ نے آج اپنے فیصلے میں کہا کہ’ ہم ڈسٹرکٹ کورٹ سے متفق ہیں کہ جیوری اس نتیجے پر پہنچنے کی حقدار تھی کہ ٹرمپ کیرول کو بدنام کرنے سے باز نہیں آئیں گے جب تک کہ ان پر بھاری مالی جرمانہ عائد نہ کیا جائے۔ٹرمپ کو اس مقدمے میں عدالت میں موجود رہنے یا گواہی دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم، انہوں نے اس کیس کو پرزور میڈیا کوریج حاصل کرنے اور وائٹ ہاؤس واپسی کی انتخابی مہم کے دوران خود کو مظلو م ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جین کیرول فیصلے میں لاکھ ڈالر کیرول کو قرار دیا کیرول کے کیا تھا دیا تھا کرنے کے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل