کراچی سمیت سندھ میں عمران خان کی رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرے
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
پی ٹی آئی کی کال گرومندر سے جناح ٹائون تک ریلی ، عوام کی بھرپور شرکت،شرکاء نے پارٹی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے
عمران کی رہائیکیلئے پانچ اگست کو ملک بھر میں عوام ایک آواز بن کر سڑکوں پر نکلے گی، حلیم عادل شیخ اور دیگر کا ریلیوں سے خطاب
پاکستان تحریک انصاف سندھ کی جانب سے سرپرست اعلی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر صوبے بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ کراچی میں پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد، جمال صدیقی، امجد جاہ، اور دیگر رہنماں کی قیادت میں گرومندر سے جناح ٹائون تک ریلی نکالی گئی، جس میں کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پانچ اگست کو ملک بھر میں عوام ایک آواز بن کر سڑکوں پر نکلے گی۔حیدرآباد میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کی قیادت میں انصاف ہاس سے ریلی نکالی گئی، جو مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے حیدر چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں پی ٹی آئی حیدرآباد ڈویژن کے صدر ایڈووکیٹ فیصل مغل، ایم پی اے ریحان راجپوت، محسن گھمن، مستنصر حسین، ممتاز نیازی، دانیال مگسی، اصامہ حفیظ، بلا اور دیگر رہنماں و کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکا نے پارٹی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر عمران خان کی رہائی اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔حلیم عادل شیخ نے حیدرآباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور عوام میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پمفلٹ بھی تقسیم کیے۔ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ختم ہوچکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کو غلام بنادیا گیا ہے، جس کے باعث عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماں کے کیسز میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پانچ اگست کو عمران خان کی ناحق قید کو دو سال مکمل ہو جائیں گے۔ وہ ایک بے گناہ لیڈر کی حیثیت سے دو سال سے قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ انہیں توڑنے کے لیے ان کی اہلیہ بشری بی بی کو بھی جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، محمود الرشید، حسان نیازی سمیت ہزاروں کارکن جھوٹے مقدمات میں گرفتار ہیں اور انہیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو انصاف کا یوں جنازہ نہ نکلتا۔ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کو سزا دی گئی، جبکہ اس کے اصل مستفید کنندگان نواز شریف اور زرداری خاندان ہیں۔ عمران خان نے اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے القادر یونیورسٹی قائم کی، جس کی پاداش میں انہیں سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم جاگ چکی ہے اور پانچ اگست کو ملک بھر میں عوام ایک آواز بن کر سڑکوں پر نکلے گی۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے کہا کہ پارٹی نے اپنی جاری تحریک کو حتمی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور بھوک ہڑتالیں ہو رہی ہیں۔ ہم عمران خان کی رہائی کے لیے آخری حد تک جائیں گے، کیونکہ عمران خان قوم کے حقوق کے لیے جیل میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اس قوم کے حقیقی لیڈر ہیں اور عام انتخابات کی طرح عوام ایک بار پھر سڑکوں پر نکل کر اس کا ثبوت دیں گے۔حلیم عادل شیخ نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اگر ملک میں آئین اور قانون باقی نہ رہا تو انصاف بھی ناپید ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب قوم گھروں سے نکلے گی تو عمران خان ضرور آزاد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ عوامی طاقت ہی عمران خان کی رہائی کا ذریعہ بنے گی، عدلیہ آزاد ہوگی، اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی بحال ہوگی۔ پی ٹی آئی 26ویں آئینی ترمیم اور پیکا جیسے کالے قوانین کے خاتمے کے لیے عوام کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاج کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔