گلگت بلتستان میں براڈ پیک پر پولش کوہ پیما حادثے کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (8,051 میٹر) پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک پولش کوہ پیما والدیمر کووالےوسکی برفانی تودے کی زد میں آکر شدید زخمی ہو گیا ہے۔زخمی کوہ پیما والدیمر کووالےوسکی کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے اور وہ اس وقت براڈ پیک کے 6,500 میٹر بلند کیمپ تھری میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے پھنسا ہوا ہے، متاثرہ کوہ پیما کا تعلق پولینڈ سے ہے اور وہ تین رکنی غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ٹیم کے ساتھ براڈ پیک کو سر کرنے کی مہم پر تھا۔حادثے کے بعد کوہ پیما کو فوری طبی امداد فراہم نہیں کی جا سکی کیونکہ بلند مقام اور سخت موسم نے ریسکیو آپریشن کو مشکل بنا دیا ہے، مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ریسکیو آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق کیمپ تھری پر موجود دیگر ساتھی کوہ پیماؤں نے رابطہ قائم کر کے امداد کی درخواست کی ہے، تاہم دشوار گزار راستوں اور برفباری کے باعث فوری رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔واضح رہے کہ براڈ پیک پاکستان کے خوبصورت مگر خطرناک ترین پہاڑی سلسلے قراقرم میں واقع ہے، جہاں ہر سال درجنوں غیر ملکی کوہ پیما مہم جوئی کے لیے آتے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ کوہ پیما کو بحفاظت نیچے لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔