خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وہ اراکین جو علی امین گنڈاپور سے ناراض ہیں، ان کی جانب سے فارورڈ بلاک بنانے کی کوششوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علی امین کی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق نہیں چل رہی۔

پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات سے باخبر ذرائع کے مطابق، پارٹی میں اختلافات ابتدا سے ہی موجود ہیں جن سے عمران خان سمیت قیادت بخوبی واقف ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ یہ اختلافات اور گروپ بندی بڑھتی جا رہی ہے، اور اب نوبت فارورڈ بلاک تک پہنچ چکی ہے۔

پی ٹی آئی میں ناراض اراکین کی تعداد کتنی ہے؟

پی ٹی آئی کے قائدین خود بھی پارٹی کے اندر اختلافات اور گروپ بندی کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن سب عمران خان کے ساتھ ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، اس وقت اسمبلی کے اراکین سمیت کارکنان کی ایک بڑی تعداد علی امین گنڈاپور سے ناراض ہے، اور متعدد اراکین اسمبلی میں آزاد حیثیت سے موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی ہائی جیک: 5 اگست کے احتجاج کے لیے علی امین گنڈاپور کی خطرناک چال

ذرائع کے مطابق، حالیہ سینیٹ انتخابات میں بھی علی امین کو خدشہ تھا کہ ناراض اراکین پارٹی کے خلاف جا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں اپوزیشن کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا۔ بتایا گیا کہ علی امین کو ناراض اراکین کی تعداد اور ان کے مؤقف کا بخوبی اندازہ ہے، اور یہ تعداد وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔

سینیئر صحافی و تجزیہ کار ارشد عزیز ملک کے مطابق، ناراض اراکین کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو کسی جماعت میں شامل نہیں اور آزاد حیثیت میں اسمبلی میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو شدید اندرونی بغاوت کا سامنا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ان کا اپنے اراکین سے رویہ ہے۔ وہ اراکین سے ملاقات نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی بات سنتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ ان سے ناراض ہیں۔

ارشد عزیز کے مطابق، کچھ اراکین کا مؤقف ہے کہ علی امین، عمران خان کے وژن کے مطابق نہیں بلکہ مقتدر حلقوں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت 35 سے زائد اراکین ایسے ہیں جو علی امین سے ناراض ہیں اور کسی بھی صورت انھیں ہٹانا چاہتے ہیں۔

کیا علی امین حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تیاری ہو رہی ہے؟

ارشد عزیز کے مطابق، نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی اراکین بھی چاہتے ہیں کہ علی امین کی حکومت کا خاتمہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر ناراض اراکین کا ایک الگ گروپ موجود ہے جو ممکنہ طور پر کسی تحریک کی صورت میں فعال ہو سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے آزاد اراکین اس وقت اپوزیشن جماعتوں کے نشانے پر ہیں۔ ان کے مطابق، عدم اعتماد کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اپوزیشن ابھی مکمل طور پر تیار نہیں۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن جماعتوں کا خیبرپختونخوا حکومت کی اے پی سی کا بائیکاٹ، علی امین گنڈاپور کا ردعمل

انھوں نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کو صرف 20 اراکین کی حمایت درکار ہے۔ ان کے مطابق، علی امین کی حکومت خطرے میں ہے، اور طالبان سے متعلق ان کا حالیہ بیان جسے مقتدر حلقوں کے خلاف سمجھا گیا، ان کی پوزیشن کو مزید کمزور کر رہا ہے۔ عدم اعتماد کی تیاری ہو رہی ہے، اور پی ٹی آئی کے اپنے لوگ اس میں کردار ادا کریں گے۔

سینیئر صحافی و سیاسی تجزیہ کار محمد عمیر کے مطابق بھی عدم اعتماد کی تیاری جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناراض اراکین کی تعداد 25 سے زائد ہے۔ سب جانتے ہیں، حتیٰ کہ علی امین بھی کہ کون کون ناراض ہے اور اپوزیشن کا ساتھ دے سکتا ہے۔

عمیر کے مطابق، سینیٹ الیکشن میں بھی ان اراکین کے اپوزیشن سے ملنے کا خدشہ تھا، جس کے باعث علی امین کو اپوزیشن سے اتحاد پر مجبور ہونا پڑا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق ہو گیا تو اگلے ہی دن تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جا سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عدم اعتماد پر اپوزیشن جماعتوں میں مکمل اتفاق نہیں ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت، جمعیت علمائے اسلام (ف) کو تحفظات ہیں۔ مولانا فضل الرحمان ابھی تک عدم اعتماد کے معاملے پر متفق نہیں، اور ان کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ تاہم بات چیت جاری ہے۔

مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور ضرورت کے مطابق تعاون کرتے ہیں، بیانات کی کوئی حیثیت نہیں، رانا ثنااللہ

انھوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ابھی تک اس بات پر متفق نہیں ہو رہیں کہ اگر عدم اعتماد کامیاب ہو گیا تو نئی حکومت کس کی ہوگی اور کس جماعت کو کتنا حصہ ملے گا۔

وزیراعلیٰ اور گورنر آمنے سامنے

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے گورنر اور اپوزیشن جماعتوں کو کھلم کھلا چیلنج دیا ہے کہ اگر ان میں دم ہے تو ان کی حکومت ختم کرکے دکھائیں۔ علی امین کا کہنا ہے کہ اگر ان کی حکومت تحریکِ عدم اعتماد کے نتیجے میں ختم ہوتی ہے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔

دوسری جانب، گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ علی امین کی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔ سینیٹ الیکشن میں 5 سیٹیں جیتنے کا کہا تھا، وہ جیت لیں، اب عدم اعتماد لاکر دکھائیں گے۔

مزید پڑھیں: شراب و اسلحہ کیس: علی امین گنڈاپور اور جج کے درمیان دلچسپ مکالمہ

خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف

پی ٹی آئی اراکین کی ناراضی اور ممکنہ عدم اعتماد کے حوالے سے صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ چین کے سرکاری دورے پر ہیں اور رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔ البتہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق، یہ حکومت عمران خان کی امانت ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف عمران خان ہی کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بغاوت پی ٹی آئی علی امین گنڈاپور ناراض اراکین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بغاوت پی ٹی ا ئی علی امین گنڈاپور ناراض اراکین علی امین کی حکومت علی امین گنڈاپور اپوزیشن جماعتوں ناراض اراکین کی ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا ہے کہ علی امین عدم اعتماد کی پی ٹی آئی کے مزید پڑھیں کے مطابق کے خلاف کے ساتھ ہو رہی کہ اگر رہی ہے

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا