اسلام آباد+راولپنڈی +سرگودھا+وزیرآباد(وقائع  نگار+جنرل رپورٹر+نمائندہ خصوصی+نامہ نگار )الیکشن کمشن آف پاکستان نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعجاز چوہدری، ایم این اے محمد احمد چٹھہ اور  اپوزیشن لیڈر  پنجاب  اسمبلی احمد خان  بھچرکی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ میانوالی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس میانوالی کیس میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب خان سمیت نامزد 57 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ الیکشن کمشن نے  سینیٹر اعجاز چوہدری کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا ہے  اعجاز چوہدری کو  انسداد دہشت گردی عدالت نے مجرم قرار دے کر 10 سال کی سزا سنائی ہے۔ الیکشن کمشن کے مطابق  اعجاز چوہدری  آرٹیکل 63  ون ایچ کے تحت رکن سینٹ رہنے کے اہل نہیں رہے۔الیکشن کمشن کی جانب سے ایم این اے محمد احمد چٹھہ اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی احمد خان کی نااہلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے احمد چٹھہ اور احمد خان بھچرکو مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال کی سزا سنائی ہے۔الیکشن کمشن کے مطابق  احمد چٹھہ این اے 66  وزیرآباد اور احمد خان بھچر پی پی87 میانوالی سے منتخب ارکان اسمبلی تھے۔سرگودھاسے نمائندہ خصوصی کے مطابق  انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں 9 مئی کے روز ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ کے واقعہ سے متعلق مقدمات 179اور 180 کمر مشانی، 349 ، 348، 355 سٹی میانوالی میں سماعت ہوئی ۔ وارنٹ گرفتاری جاری ہونے والوں میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی احمد خان بھچر، ایم این ایز بلال اعجاز اور احمد چٹھہ کے نام شامل ہیں۔عدالت نے مقدمہ نمبر 349 تھانہ سٹی میانوالی کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے تمام ملزموں کو پیش کرنے کا حکم دیا۔پی ٹی آئی کے وکیل جواد مظہر دھون کے مطابق کیس میں گواہان کی شہادتیں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ عدالت نے تمام ملزموں کی عدم پیشی پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔راولپنڈی سے جنرل رپورٹر کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 26 نومبر کو تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے میں نامزد ملزم کے  پیش نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے 70 ملزموں کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری جاری اعجاز چوہدری اپوزیشن لیڈر الیکشن کمشن احمد چٹھہ عدالت نے کے مطابق

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری