اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی تجارتی شراکت داری  کو اہم  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یورپی یونین کی سفیر رینا کیونکا  سے گفتگو میں کیا جنہوں نے ان سے  الوداعی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے یورپی یونین کی سفیر کو پاکستان میں اپنی مدت ملازمت کی کامیابی سے تکمیل پر مبارکباد دیتے ہوئے  پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں 2022ء کے سیلاب کے دوران یورپی یونین کی جانب سے مدد کو یقینی بنانے میں  ان  کی کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر یورپی یونین کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جی ایس پی پلس سکیم کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا جو  فریقین کے لیے  باہم فائدہ مند ثابت ہوئی۔ وزیر اعظم نے یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیرلیین کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ان سے جلد  ملاقات کے منتظر ہیں۔ علاوہ ازیں شہباز شریف نے  ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر حکومت کی جانب سے ہرممکن قانونی و سفارتی   مدد کی فراہمی   کا یقین دلاتے ہوئے  وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی۔ شہباز شریف سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی  نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں کسی طور غافل نہیں، حکومت کی جانب سے پہلے بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں سفارتی و قانونی مدد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ وزیر اعظم نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں اب بھی حکومت کی جانب سے ہر ممکن قانونی و سفارتی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ کمیٹی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے اس حوالے سے رابطے میں رہے گی اور درکار ممکنہ معاونت کیلئے کام کرے گی۔ مزید براں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات ہماری حکومت کی  اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن، سرکاری اداروں کی رائیٹ سائزنگ اور حکومتی اداروں میں میرٹ پر ماہرین کی  تعیناتی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے  جمعہ کو وفاقی وزارتوں اور محکموں میں تکنیکی ماہرین کی تعیناتی اور بیرونی  سرمایہ کاری  پرحکمت عملی   کی تشکیل اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی پر پیشرفت  کے حوالے سے جائزہ اجلاس  سے خطاب میں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹایزیشن، سرکاری اداروں کی رائٹ سائزنگ اور حکومتی اداروں میں میرٹ پر ماہرین کی  تعیناتی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، ماہرین کی تعیناتی کے حوالے سے میرٹ اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہو گا۔ اجلاس میں وزیراعظم کو تکنیکی ماہرین کی تعیناتی کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی  پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ اب تک تکنیکی ماہرین کی 15 اسامیوں پر تعیناتیاں ہوچکی ہیں، مزید 47 تکنیکی اسامیوں پر ماہرین کی تعیناتی کی جا رہی ہے، 7 اہم وزارتوں اور محکموں میں چیف ایگزیکٹو افسران، چیف فنانس افسران اور مینجنگ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے لئے 30 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب شہباز شریف سے تحریک انصاف کے سابق صوبائی صدر اور سابق صوبائی وزیر نوابزادہ محسن علی خان نے ملاقات  کی۔ وزیراعظم نے نوابزادہ محسن علی خان کا مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ خیبر پی کے میں مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں کو فروغ دینے اور عوامی روابط بڑھانے کے حوالے سے فعال کردار ادا کریں گے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پی کے کے عوام کی فلاح و بہبود اور وہاں امن و امان کے فروغ کے لئے ہرممکن کردار ادا کرتی رہے گی۔ شہباز شریف نے پاکستان کے پہلے سکلز ایمپیکٹ بانڈ کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جدید ماڈل نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کیلئے نجی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔ پاکستان کے باصلاحیت نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار کے قابل تعلیم و ہنر کی فراہمی سے اس ملک کی تقدیر بدلیں گے۔ پاکستان کے باصلاحیت نوجوان دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں۔ نوجوانوں کو پاکستان اور بیرون ملک روزگار کے مواقع اور حصول کی تعداد کے تخمینے پر مبنی ایک جامع روڈمیپ پیش کیا جائے۔ ہر دو ماہ میں اس پر عملدرآمد کی پیش رفت کا خود جائزہ لوں گا۔ اس نظام کے تحت نوجوانوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ایسے ہنر سکھائے جائیں گے جس سے پاکستان کے نوجوان با اختیار اور ملکی اقتصادی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں گے۔ پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے حصول میں معاونت کیلئے ان ممالک کی مقامی زبانوں کی تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ بیرون ملک روزگار کے حصول کیلئے ہنر مند افراد کی تیاری کو ترجیح دی جائے۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل یوتھ ہب پر موجود روزگار کے مواقع کے حوالے سے  آگاہی فراہم کرنے کیلئے مہم چلائی جائے۔ پاکستان کے باصلاحیت نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار کے قابل تعلیم و ہنر کی فراہمی سے اس ملک کی تقدیر بدلیں گے۔ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے تحت اب تک پانچ لاکھ سے زائد افراد رجسٹرڈ ہو چکے جبکہ 17 لاکھ سے زائد لوگوں نے اس کی ایپلی کیشن کو ڈائون لوڈ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے ماہرین کی تعیناتی یورپی یونین کی نے یورپی یونین شہباز شریف نے نوجوانوں کو کے حوالے سے پاکستان کے تعیناتی کے کی جانب سے روزگار کے حکومت کی کا اظہار کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری