اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء نے کہا کہ زائرین کے زمینی سفر پر پابندی کا فیصلہ نہ صرف زائرین کے آئینی و مذہبی حقوق کی کھلی خلاف ورزی، بلکہ پاکستان کے کروڑوں شیعہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی بلوچستان کے رہنماء سہیل اکبر شیرازی نے کہا ہے کہ زائرین کے زمینی سفر پر پابندی کا فیصلہ ناقابل قبول، غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کا مظہر اور کروڑوں شیعہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستانی زائرین کو زیارات مقدسہ (عراق و ایران) کے لئے زمینی راستے سے سفر کی اجازت نہ دینے کے فیصلے پر سخت تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی ہے، اور یہ فیصلہ نہ صرف زائرین کے آئینی و مذہبی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ پاکستان کے کروڑوں شیعہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی زائرین ایران، مشہد، قم، کربلا و نجف اشرف کی مقدس زیارات کے لئے زمینی راستے سے سفر کرتے ہیں، جو کہ فضائی سفر کے مقابلے میں کم خرچ اور سہولت بخش بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ رویہ ناقابل قبول، غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کا مظہر ہے۔ مجلس وحدت مسلمین مطالبہ کرتی ہے کہ زائرین کو فی الفور زمینی راستے سے زیارات پر جانے کی اجازت دی جائے۔ ایران کے ساتھ زمینی رفت آمد کو بحال کیا جائے۔ اور زائرین کے لئے راستوں  پر سکیورٹی، اور باڈر پر دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے حکومت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ امتیازی پالیسی ختم نہ کی گئی، تو ملت جعفریہ اس ظلم کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ انہوں نے تمام دینی، ملی اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ زائرین کے حق میں آواز بلند کریں اور مذہبی آزادی کے اس جبر کے خلاف متحد ہو کر مؤقف اپنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: زائرین کے انہوں نے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ

فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل