زائرین کے زمینی سفر پر پابندی غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کا مظہر ہے، سہیل اکبر شیرازی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء نے کہا کہ زائرین کے زمینی سفر پر پابندی کا فیصلہ نہ صرف زائرین کے آئینی و مذہبی حقوق کی کھلی خلاف ورزی، بلکہ پاکستان کے کروڑوں شیعہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی بلوچستان کے رہنماء سہیل اکبر شیرازی نے کہا ہے کہ زائرین کے زمینی سفر پر پابندی کا فیصلہ ناقابل قبول، غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کا مظہر اور کروڑوں شیعہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستانی زائرین کو زیارات مقدسہ (عراق و ایران) کے لئے زمینی راستے سے سفر کی اجازت نہ دینے کے فیصلے پر سخت تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی ہے، اور یہ فیصلہ نہ صرف زائرین کے آئینی و مذہبی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ پاکستان کے کروڑوں شیعہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی زائرین ایران، مشہد، قم، کربلا و نجف اشرف کی مقدس زیارات کے لئے زمینی راستے سے سفر کرتے ہیں، جو کہ فضائی سفر کے مقابلے میں کم خرچ اور سہولت بخش بھی ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ رویہ ناقابل قبول، غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کا مظہر ہے۔ مجلس وحدت مسلمین مطالبہ کرتی ہے کہ زائرین کو فی الفور زمینی راستے سے زیارات پر جانے کی اجازت دی جائے۔ ایران کے ساتھ زمینی رفت آمد کو بحال کیا جائے۔ اور زائرین کے لئے راستوں پر سکیورٹی، اور باڈر پر دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے حکومت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ امتیازی پالیسی ختم نہ کی گئی، تو ملت جعفریہ اس ظلم کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ انہوں نے تمام دینی، ملی اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ زائرین کے حق میں آواز بلند کریں اور مذہبی آزادی کے اس جبر کے خلاف متحد ہو کر مؤقف اپنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زائرین کے انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔