غزہ کی صورتحال انسانیت کے ماتھے پر بدنماء داغ ہے، ناروے
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک اجلاس میں نارویجن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے حکم دیا کہ اسرائیل کا قبضہ ختم ہونا چاہئے کیونکہ ناجائز آبادکاری کی پالیسی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ناروے کے وزیر خارجہ "اسپن بارٹ ایڈ" نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانیت کے ماتھے پر ایک داغ ہے اور یہ قتل عام بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فلسطین پر اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنگ ختم ہونی چاہئے اور غزہ کی پٹی میں انسانیت کی بنیاد پر امداد کو داخل ہونے دینا چاہئے۔ انہوں نے اس امر کی جانب شرکاء کی توجہ مبذول کروائی کہا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے حکم دیا کہ اسرائیل کا قبضہ ختم ہونا چاہئے کیونکہ ناجائز آبادکاری کی پالیسی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسپن بارٹ ایڈ نے مزید کہا کہ ہم اسرائیل کو ہتھیار فروخت نہیں کرتے۔ ہم مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جارحانہ سرگرمیوں کو جرم قرار دیتے ہیں۔ ہم نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا ہے اور اس امر کو مزید وسعت دینے کے لیے واضح بین الاقوامی اقدامات کے خواہاں ہیں۔ نارویجن وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے خود مختار فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کے لیے 20 ملین ڈالر کا اعلان کیا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو چاہئے کہ وہ اپنے آبادکاروں کی اشتعال انگیزی کو قابو کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔