ڈکھن پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور وزیر داخلہ فوراً بائے روڈ زیارات پر پابندی کا فیصلہ واپس لیں اور زائرین کے بارڈر کھول دیئے جائیں اور زائرین کرام کے لئے مکمل سہولیات فراہم کی جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے حکومت کی جانب سے زائرین امام حسین علیہ السلام کی راہ میں رکاؤٹوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زائرین کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی آئینی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے اپنے عوام کے لئے ہمیشہ آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ڈکھن پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور وزیر داخلہ فوراً بائے روڈ زیارات پر پابندی کا فیصلہ واپس لیں اور زائرین کے بارڈر کھول دیئے جائیں اور زائرین کرام کے لئے مکمل سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب بنو امیہ اور بنو عباس جیسے جابر حکمران زائرین کا راستہ نہ روک سکے تو نون لیگ کی حکومت بھی ہرگز نہیں روک سکتی۔ اس اقدام اور اعلان سے حکومت کو ذلت اور رسوائی میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

اس سے قبل ڈکھن سٹی، تعلقہ ڈکھن پہنچنے پر علامہ مقصود ڈومکی نے تعلقہ صدر سید نوید علی شاہ، مستنصر مہدی ابڑو، حسنین عباس جوادی، واجد حسین جتوئی ھابیل مہدی محبوب علی ابڑو اور دیگر تنظیمی رہنماؤں اور مومنین کرام سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انہوں نے نے ڈکھن سٹی میں زیر تعمیر جامع مسجد کا وزٹ کیا۔ اس موقع پر موجود مومنین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کی تعمیر عظیم عبادت ہے۔ مسجد صرف عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ اسلامی معاشرے میں تبلیغ دین، تعلیمات قرآن و اہل بیت کے فروغ اور اصلاح معاشرہ کا مرکز ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو مساجد کی طرف راغب کریں اور انہیں دین سے جوڑنے ہوئے مساجد کو آباد کریں۔ آخر میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے علاقے کے ایک نوجوان عامر حسین خروس کی ناگہانی وفات پر ان کے والد دین محمد خروس و دیگر لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ اہل بیت علیہ السلام میں جگہ عطا فرمائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے اور زائرین کرتے ہوئے

پڑھیں:

بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے  محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔ 

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ