وفاقی حکومت فوراً بائے روڈ زیارات پر پابندی کا فیصلہ واپس لے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ڈکھن پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور وزیر داخلہ فوراً بائے روڈ زیارات پر پابندی کا فیصلہ واپس لیں اور زائرین کے بارڈر کھول دیئے جائیں اور زائرین کرام کے لئے مکمل سہولیات فراہم کی جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے حکومت کی جانب سے زائرین امام حسین علیہ السلام کی راہ میں رکاؤٹوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زائرین کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی آئینی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے اپنے عوام کے لئے ہمیشہ آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ڈکھن پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور وزیر داخلہ فوراً بائے روڈ زیارات پر پابندی کا فیصلہ واپس لیں اور زائرین کے بارڈر کھول دیئے جائیں اور زائرین کرام کے لئے مکمل سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب بنو امیہ اور بنو عباس جیسے جابر حکمران زائرین کا راستہ نہ روک سکے تو نون لیگ کی حکومت بھی ہرگز نہیں روک سکتی۔ اس اقدام اور اعلان سے حکومت کو ذلت اور رسوائی میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
اس سے قبل ڈکھن سٹی، تعلقہ ڈکھن پہنچنے پر علامہ مقصود ڈومکی نے تعلقہ صدر سید نوید علی شاہ، مستنصر مہدی ابڑو، حسنین عباس جوادی، واجد حسین جتوئی ھابیل مہدی محبوب علی ابڑو اور دیگر تنظیمی رہنماؤں اور مومنین کرام سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انہوں نے نے ڈکھن سٹی میں زیر تعمیر جامع مسجد کا وزٹ کیا۔ اس موقع پر موجود مومنین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کی تعمیر عظیم عبادت ہے۔ مسجد صرف عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ اسلامی معاشرے میں تبلیغ دین، تعلیمات قرآن و اہل بیت کے فروغ اور اصلاح معاشرہ کا مرکز ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو مساجد کی طرف راغب کریں اور انہیں دین سے جوڑنے ہوئے مساجد کو آباد کریں۔ آخر میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے علاقے کے ایک نوجوان عامر حسین خروس کی ناگہانی وفات پر ان کے والد دین محمد خروس و دیگر لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ اہل بیت علیہ السلام میں جگہ عطا فرمائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے اور زائرین کرتے ہوئے
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ