بلاول بھٹو زرداری—فائل فوٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، سابق وزیرِ خارجہ اور پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خطہ ایران اور اسرائیل جنگ کی طوالت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

یورپیئن ایکسٹرنل ایکشن سروس کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دورے کے دوران پاکستان کا مؤقف بیان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے عہدیداروں کو دریائے سندھ اور امن کے حوالے سے اپنے مؤقف اور بھارتی جارحیت سے آگاہ کیا۔

پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ نے کہا کہ بھارت نے جو جنگ شروع کی اسے ہم نے ختم کیا، اس سے بھی یورپی یونین کو آگاہ کیا اور اپیل کی کہ وہ امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اُن کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کرنے کا کہا ہے، اقوامِ متحدہ، برطانیہ اور یورپی یونین میں مثبت ردِعمل ملا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان امن کی بات کر رہا ہے، امریکا بھی امن کی بات کر رہا ہے، اگر کوئی جنگ کی بات کر رہا ہے تو وہ بھارت ہے، وہ بھی جلد اس پوزیشن سے ہٹ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں، اس کی جتنی مذمت کریں کم ہے، اسرائیل کی فلسطینیوں کی نسل کشی اور ہمسائیوں سے جنگ کی پالیسی ہمارے خطے تک پہنچ گئی ہے۔

پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ نے کہا کہ عالمی برداری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران اسرائیل جنگ روکی جائے، ہمارے خطے میں امن بہت ضروری ہے، اس جنگ کے طوالت پکڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم