موسم کے پہلے مینگو فیسٹیول کا جناح ٹاؤن کے اشتراک سے افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)جناح ٹاؤن میونسپل کارپوریشن اور ایم ایس سید گروپ کے اشتراک سے یوسی 5، پی آئی بی گراؤنڈ میں سیزن کا پہلا مینگو فیسٹیول کا گزشتہ شب باقاعدہ طور پر افتتاح کر دیا گیا، جو ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔ فیسٹیول میں آموں کی 16 نایاب و اعلیٰ اقسام جن میں چونسا، سندھڑی، الفانسو، مالدا، نیلم، امرپالی، فضلی سمیت دیگر شامل تھیں، شہریوں کے لیے مناسب نرخوں پر پیش کی گئیں۔ اس فیسٹیول کا مقصد عوام کو موسمی پھل کی معیاری اقسام سستے داموں فراہم کرنا اور فیملی تفریح کے مواقع مہیا کرنا ہے۔ فیسٹیول میں بچوں کے لیے جھولے، کھانے پینے کے اسٹالز اور خواتین کے لیے جیولری و دیگر اشیاکے خصوصی اسٹالز بھی لگائے گئے، جنہیں شہریوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی یوسی 5 کے چیئرمین کلیم عثمانی تھے، جبکہ یوسی وائس چیئرمین راؤ محسن، کونسل ممبر انا عبدالرشید، راؤ کاشف، ٹرانسجینڈر رکنِ کونسل سعدیہ چوہدری اور ٹاؤن افسران و عملہ بھی اس موقع پر موجود تھا۔ یوسی چیئرمین نے فیسٹیول کو عوامی سطح پر ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن انتظامیہ شہریوں کی سہولت اور تفریح کے لیے ایسی سرگرمیوں کے فروغ کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔