عظمیٰ بخاری کی زیرصدارت اجلاس‘ ایکریڈیشن کارڈ کیلئے تجربہ کی مدت 5 سال مقرر
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی زیر صدارت صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل اور میڈیا انڈسٹری کی بہتری کے لیے جائزہ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جن میں DGPR کے ایکریڈیشن کارڈ کے اجرا کے لیے صحافیوں کے لیے درکار تجربے کی شرط میں نرمی شامل ہے۔ اب ایسے صحافی جو مسلسل پانچ سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، انہیں DGPR ایکریڈیشن کارڈ جاری کیا جائے گا۔ اس سے قبل یہ شرط دس سالہ تجربے پر مشتمل تھی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سال 2025 کے دوران اب تک پنجاب بھر میں 2,725 صحافیوں کو ایکریڈیشن کارڈ جاری کیے جاچکے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جائزہ کمیٹی صحافی کی ایک متفقہ اور واضح تعریف مرتب کرے گی تاکہ پالیسی سازی میں شفافیت لائی جاسکے۔ اخبار مالکان اور ایڈیٹرز کی تنظیموں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ڈمی اخبارات کے خاتمے کے لیے حکومت پنجاب کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔ جائزہ کمیٹی نے DGPR کی جانب سے میڈیا اداروں کو اشتہارات کی بروقت ادائیگیوں کو سراہا اور شکریہ ادا کیا۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے کارکنان کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں تاکہ میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی اور ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (DGPR) غلام صغیر شاہد نے شرکت کی۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر صحافی کاظم خان، نوید کاشف، حافظ طارق، ایاز خان، نور اللہ اور محسن ممتاز سمیت میڈیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندگان شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں عظمیٰ بخاری سے گوجرانوالہ پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں نے ملاقات کی۔ عظمیٰ بخاری نے نومنتخب صدر رانا انصر، سینئر نائب صدر شفقت عمران، نو منتخب سیکرٹری جنرل ذیشان طاہر، صدر گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس یاسر جٹ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر راجہ حبیب کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیر اطلاعات نے نومنتخب باڈی کو ہدایت کی کہ گوجرانوالہ پریس کلب کو تمام صحافیوں کے لیے اوپن پلیٹ فارم بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایکریڈیشن کارڈ کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔