data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:وفاقی حکومت کی ٹیکس پالیسی میں نان فائلرز کے لیے نئی پابندیاں متعارف کرا دی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کر دیا ہے کہ بینکوں سے نقد رقم نکالنے والے نان فائلرز کو اب 0.

8 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا ہوگا۔

کمیٹی اجلاس کی صدارت چیئرمین نوید قمر نے کی، جس میں متعدد اہم تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔

ایف بی آر حکام نے اجلاس کے دوران بتایا کہ ماضی میں نان فائلرز پر کیش نکالنے کی صورت میں 0.6 فیصد ٹیکس عائد تھا، تاہم اب اس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اگر کوئی نان فائلر شخص روزانہ 50 ہزار روپے کی رقم نکلواتا ہے تو اس پر 400 روپے کا ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا،تاہم اس حد پر اراکین کمیٹی نے اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ اس حد میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ عام صارفین پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کے مطالبے پر لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کرنے کی تجویز پیش کی، جسے بعد ازاں کمیٹی نے منظور بھی کر لیا۔ یوں نان فائلرز اب روزانہ 75 ہزار روپے تک کی نقد رقم نکال سکیں گے، جس پر 0.8 فیصد یعنی 600 روپے تک ٹیکس عائد ہو گا۔

اجلاس کے دوران کچھ اراکین نے تجویز دی کہ یہ حد ایک لاکھ روپے تک ہونی چاہیے، لیکن چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ جو شخص یومیہ ایک لاکھ روپے کی رقم نکالتا ہے، وہ ویسے ہی خاصا خوشحال ہے، اس پر ٹیکس کا بوجھ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔

کمیٹی کے اجلاس میں محض بینکنگ ٹیکس ہی زیر بحث نہیں رہا بلکہ دیگر کئی اہم مالیاتی تجاویز پر بھی غور ہوا۔ آن لائن خریداری پر اضافی 2 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز کمیٹی نے مسترد کر دی جب کہ بینک قرضوں پر منافع کے ٹیکس کو 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی تجویز کو بھی رد کر دیا گیا۔ ان دونوں تجاویز پر اراکین کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، مزید بوجھ مناسب نہیں۔

دوسری طرف گوگل، یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ منظور کر لیا گیا۔ نئی تجویز کے مطابق ان سروسز پر 10 فیصد کے بجائے 15 فیصد ٹیکس عائد ہو گا، جس کا براہ راست اثر مواد بنانے والوں، مارکیٹرز اور آن لائن کاروبار کرنے والوں پر پڑے گا۔ ایف بی آر حکام کے مطابق یہ قدم ڈیجیٹل معیشت سے بہتر ریونیو حاصل کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

اجلاس میں کمرشل جائیدادوں کے کرایے سے حاصل ہونے والی آمدن پر 4 فیصد اضافی ٹیکس کی تجویز کو موخر کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تجویز بھی مسترد کی گئی کہ اگر کوئی فرد 2 لاکھ روپے کی فروخت کرتا ہے تو وہ لازماً بینکاری لین دین کے ذریعے ہو۔ کمیٹی نے اس تجویز کو غیر عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے تاجروں کے لیے یہ شرط کاروباری مشکلات میں اضافہ کرے گی۔

مزید برآں کمیٹی نے ایک اور اہم تجویز منظور کی کہ رینٹل آمدن کو کاروباری نقصانات میں ایڈجسٹ نہ کیا جائے۔ ایف بی آر نے وضاحت کی کہ بعض افراد اپنی جائیداد سے حاصل ہونے والی کرایہ داری کو کاروباری نقصانات سے مشروط کر کے غیر ضروری طور پر ٹیکس میں چھوٹ حاصل کر رہے ہیں، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نان فائلرز ایف بی آر کر دیا

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی