اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جون2025ء) آٹو موبائلز کی فروخت میں مئی 2025 کے دوران 35.05 فیصد جبکہ جاری مالی سال میں 39.40 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما)کے اعداد وشمار کے مطابق مئی 2025 کے دوران کاروں ، ایس یو ویز ،پک اپس اور ویگنوں کی فروخت کا حجم 14ہزار 762 یونٹس تک بڑھ گیا جبکہ مئی 2024 میں فروخت کا حجم 10ہزار 930 یونٹس رہا تھا ۔

اس طرح ماہانہ بنیادوں پر آٹو موبائلز کی فروخت میں 35 فیصد کی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ میں جولائی 2024 تا مئی 2025 کے دوران کاروں ، ایس یو ویز ،پک اپس اور ویگنوں کی فروخت کا حجم ایک لاکھ 26 ہزار 226 یونٹس رہاہے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران 90 ہزار 545 یونٹس فروخت کئے گئے تھے ۔

(جاری ہے)

اس طرح گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران چھوٹی گاڑیوں کی فروخت میں 35 ہزار 681 یونٹس یعنی 39.

40 فیصدکا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔

پاما کی رپورٹ کے مطابق سازگار انجینئرنگ کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر 67 فیصد جبکہ 18 سالانہ اضافہ ہوا ہے۔ مزید براں انڈس موٹر کمپنی کی ماہانہ فروخت میں 48 فیصد جبکہ سالانہ فروخت میں 136 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اسی طرح ہنڈ اٹلس کارز کی ماہانہ فروخت 17 فیصد جبکہ سالانہ فروخت میں 69 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہنڈائی نشاط کی تیار کردہ گاڑیوں کی ماہانہ فروخت میں 45 فیصد جبکہ سالانہ فروخت میں 58 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ پاما کے اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال میں ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں مئی 2025 کے دوران 147 فیصد جبکہ مئی 2025 میں 17 فیصد کی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے ۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مئی 2025 کے دوران فیصد اضافہ ہوا کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے مالی سال کے فیصد جبکہ ریکارڈ کی کے مطابق

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا