data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ پاکستان کا انتظامی لحاظ سے بدترین صوبہ ہے، یہاں سڑکوں سے اسپتالوں اور اسکولوں تک صرف تباہی ہی تباہی ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے لیے پیش کیا گیا 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ بظاہر اعداد و شمار کی چمک دمک سے مزین ہے، لیکن حقیقت میں یہ بجٹ عوامی امنگوں سے کوسوں دور، مخصوص طبقات کو خوش کرنے اور دکھاوے پر مبنی ایک روایتی مشق ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ کی طرح صرف اخباری خبروں تک محدود رہے گا۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بجٹ میں تعلیم، صحت، پنشن، ترقیاتی منصوبوں، اور فلاحی اسکیموں کا خوب چرچا کیا، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ تعلیم کے شعبے کے لیے 12.
4 فی صد اضافے کا اعلان ضرور کیا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سندھ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری، بچوں کی شرح خواندگی اور انفرا اسٹرکچر کی حالت بہتر ہوئی؟ کیا یہ فنڈز بھی سابقہ ادوار کی طرح کرپشن اور اقربا پروری کی نذر نہیں ہو جائیں گے؟ اسی طرح صحت کے لیے 326 ارب روپے رکھنا بظاہر خوش آئند ہے، مگر جب اسپتالوں میں ایک بستر پر دو مریض لیٹے ہوں، اور دور دراز علاقوں میں بنیادی طبی سہولت تک میسر نہ ہو تو یہ اعلانات محض اعداد وشمار کا کھیل معلوم ہوتے ہیں۔ کراچی، جو ملک کا معاشی دارالحکومت ہے اور سندھ کے بجٹ میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، ایک بار پھر نظرانداز ہوا ہے۔ جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق کی یہ بات بالکل بجا ہے کہ ’’یہ بجٹ غربت نہیں بلکہ غریب کے خاتمے کا بجٹ ہے‘‘۔ کراچی کے لیے کوئی بڑا میگا پروجیکٹ شامل نہ کرنا، K-4 جیسے پانی کے منصوبے کو پھر سے نظر انداز کرنا، اور پبلک ٹرانسپورٹ کا صرف ذکر کرنا، سب حکومتی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ناانصافی کراچی کے ساتھ برسوں سے جاری ہے، اور پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور ن لیگ تینوں اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ پیپلز پارٹی جو پچھلے کئی عشروں سے سندھ میں اقتدار پر قابض ہے، اس نے قبضہ کرکے اور یرغمال بنا کر عوام کو صرف غربت، پسماندگی، بیروزگاری، اور کرپشن کا تحفہ دیا ہے۔ دیہی سندھ میں زرعی معیشت کو تباہ کیا گیا، چھوٹے کسانوں کو کبھی وقت پر پانی ملا، نہ کھاد اور نہ ہی ان کی پیداوار کی قیمت۔ شہری سندھ، بالخصوص کراچی، جس سے حکومت کو سب سے زیادہ ٹیکس ملتا ہے، مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی حالت زار، سیوریج کا نظام، سڑکوں کی تباہی، کچرے کا ڈھیر، اور پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر کو جان بوجھ کر تنہا چھوڑا۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور سیاسی بنیادوں پر ترقیاتی فنڈز کے استعمال نے کراچی کے نوجوانوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے بار بار اقتدار میں آ کر صرف اپنے قریبی حلقے کو نوازا گیا، یہ طرزِ حکمرانی سراسر استحصالی ہے جس کا خمیازہ سندھ کی نسلیں بھگت رہی ہیں۔ بجٹ میں 4400 اساتذہ اور عملے کی بھرتی کا دعویٰ کیا گیا، لیکن اس میں میرٹ اور شفافیت کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور یہاں لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں اس سے قبل کے برسوں کے بجٹ کا کیا ہوا اور کون سی تبدیلی عوام کو دیکھنے کو ملی ہے۔ ترقیاتی منصوبے 520 ارب روپے تک محدود کیے گئے، جو کہ سندھ جیسے پسماندہ صوبے کے لیے نہایت ناکافی ہیں، خاص طور پر جب ہر سال اربوں روپے غیر ترقیاتی اخراجات اور وزراء کی مراعات پر خرچ ہو رہے ہوں۔ حکومت کی جانب سے 5 محصولات ختم کرنے اور کسانوں کو سبسڈی دینے جیسے اقدامات کی تعریف کی جا سکتی ہے، لیکن ان اقدامات کے عملی اطلاق پر شدید سوالات موجود ہیں۔ سابقہ کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اقدامات بھی نعرے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جو ایم کیو ایم سندھ حکومت پر تنقید کر رہی ہے، وہی وفاقی حکومت میں شامل ہوکر وفاقی بجٹ کا دفاع کرتی ہے جس میں کراچی کو بھی مکمل نظر انداز کیا گیا۔ اس دوغلی سیاست سے عوام بخوبی واقف ہو چکے ہیں۔ یہ بجٹ سندھ کے متوسط اور غریب طبقے کے لیے کسی ریلیف کا باعث نہیں، بلکہ مہنگائی، بیروزگاری اور بدانتظامی کا تسلسل ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور انفرا اسٹرکچر جیسے بنیادی مسائل بدستور حل طلب ہیں، اور حکومت ان پر سنجیدہ اقدامات کرنے کے بجائے محض زبانی جمع خرچ سے کام چلا رہی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ سندھ کے عوام اس بجٹ کے دھوکے کو پہچانیں، اور اپنے حق کے لیے مزاحمت کریں اور اپنی طاقت سے ایسی حکمرانی کو مسترد کریں جو صرف اپنے مفادات کی نگہبان ہو، نہ کہ عوام کی خیرخواہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ:
پیپلز پارٹی
کراچی کے
کیا گیا
سندھ کے
کے لیے
پڑھیں:
پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں 132ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا آج 300 سے زائد خواتین اپنی ٹریننگ مکمل کررہی ہیں، مجھےخواتین کی کامیابی پر بہت خوشی ہوئی کہ ایک تازہ دم دستہ عوام کی خدمت کےلیے تیار ہے، شہریوں کو پر امن زندگی دینے کی ذمےداری اب آپ پر عائد ہوتی ہے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک دہشتگردی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمارے جوانوں نے بہت قربانیاں دیں ہیں، کچے کے علاقے کچھ عرصے پہلے تک بحران سے دوچار تھے، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائےگا، پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی فلاح و بہبود ہمیشہ سے میری اولین ترجیح رہی ہے، مستقبل میں بھی پولیس کے تمام مسائل کو بہتر اور ترجیحی انداز میں حل کیا جائے گا، پاس آؤٹ ہونے والے جوان فیلڈ میں جا کر سندھ پولیس کا نام مزید روشن کریں گے۔مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ پولیس اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ہی اپنے امیج (تاثر) کو بہتر بنا سکتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے، سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اس موقع پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانےکی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔